Friday, December 11, 2015

’دہشت گردی کے الزامات ختم‘، ڈاکٹر عاصم نیب کے حوالے

Image copyrightBBC World Service
Image captionتفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عاصم حسین پر دہشت گردی کے الزامات میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت نہیں مل سکے
کراچی میں احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کو قومی احتساب بیورو کے حوالے کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نیب کے علاوہ کسی اور ادارے کی ان تک رسائی نہیں ہوگی۔
جمعے کو دہشت گردی کے مقدمے سے بریت کے بعد نیب نے انھیں ہائی کورٹ سے سیدھا نیب عدالت کے جج کے روبرو پیش کیا۔
نیب کے افسر 15 روز کے ریمانڈ کی درخواست کی تاہم جج سعید قریشی نے سات روز کا ریمانڈ دینے کا فیصلہ کیا۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ڈاکٹر عاصم حسین سے خاندان کی ملاقات کو یقینی بنایا جائے اور انھیں کھانا گھر سے فراہم کیا جائے۔
اس سے قبل سندھ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے انتظامی جج نعمت اللہ پھلپوٹو نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کو قومی احتساب بیورو کے حوالے کر دیا ہے۔
جمعے کو سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عاصم پر عائد دہشت گردی کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
ڈاکٹر عاصم حسین 106 روز رینجرز اور پولیس کی حراست میں رہے۔
رینجرز نے ان پر دہشت گردوں اور ملزمان کو پناہ دینے اور رعایتی نرخوں پر علاج معالجے کے الزامات عائد کیے تھے لیکن پولیس نے اپنی تحقیقات میں ان الزامات کو مسترد کر دیا۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عاصم حسین پر دہشت گردی کے الزامات میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت نہیں مل سکے لہذا انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عاصم کو جمعے کو سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات میں عدالت لایا گیا۔
اس پر عدالت نے ان سے سوال کیا کہ انھیں رہا کر دیا گیا ہے یا کیا جائے گا؟ تفتیشی افسر نے آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عاصم رہا ہیں لیکن عدالت کے احترام میں انھیں لایا گیا ہے۔
عدالت نے انھیں ہدایت کی کہ 497 سی آر پی سی کے تحت تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے جس کی شق کی تحت ڈاکٹر عاصم کو رہا کیا گیا ہے، تفتیشی افسر نے یہ رپورٹ دس روز میں جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
سندھ حکومت اور رینجرز میں اختیارات کی کشیدگی کا عکس عدالت میں بھی نظر آیا جب رینجرز کے وکلا نے ڈاکٹر عاصم حسین کو بری نہ کرنے کی درخواست کی۔
پبلک پراسیکیوٹر کا موقف تھا کہ پولیس کے تفتیشی افسر نے ان سے مشاورت نہیں کی اور یہ بات غلط ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر عاصم حسین نے جن دہشت گردوں کا علاج کیا وہ مطلوب ملزمان تھے۔ لیاری امن کمیٹی کے ظفر بلوچ اور عمر کچھی سمیت دیگر کے علاج کا ریکارڈ عدالت کے پاس موجود ہے، اس کے علاوہ ڈپٹی میڈیکل افسر بھی اعترافی بیان میں یہ قبول کرچکے ہیں لیکن تفتیشی افسر نے اعلیٰ سیاسی عہدیداران اور اعلٰی پولیس حکام کہ کہنے پر یہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہپستال کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح رینجرز نے ہپستال کا محاصرہ کر کے ریکارڈ حاصل کیا۔
ڈاکٹر عاصم حسین نے عدالت سے مخاطب ہو کر کہا کہ جو بھی بل پیش کیے گئے وہ کمپیوٹر سے تیار کیے گئے ہیں، ان کا کوئی میڈیکل ریکارڈ دستیاب نہیں کہ کس ڈاکٹر نے اور کیا علاج کیا۔
ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ رینجرز کی 90 روز کی حراست کے دوران رینجرز ، قومی احتساب بیورو اور دیگر ادارے ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے ہیں۔
اس موقعے پر قومی احتساب بیورو کے وکیل نے عدالت کو تحریری درخواست پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری زمین پر قبضے، رقومات کی غیر قانونی طریقے سے منتقلی اور دیگر معاملات میں ان سے تفتیش کرنی ہے لہذاانھیں نیب کی تحویل میں دیا جائے جس کے بعد انھیں نیب کے حوالے کردیا گیا۔
ڈاکٹر عاصم حسین سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ہیں، ان کی گرفتاری پر آصف زرداری نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔

’پائپ لائن کے تحفظ کے لیے طالبان سے بات کریں گے‘



پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت آنے والی گیس پائپ لائن کے منصوبے کو تحفظ دلانے کے لیے پاکستانی حکومت طالبان شدت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گی۔
’تاپی‘ کے نام سے مشہور اس گیس پائپ لائن منصوبے پر تعمیر کا کام اتوار 13 اگست سے شروع ہو گا جس کے لیے پاکستانی اور بھارتی وزیر اعظم ترکمانستان پہنچ رہے ہیں۔
دس ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی 1700 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کو دو سال میں مکمل ہونا ہے۔
یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی جس میں سے دو ارب افغانستان اور ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان اور بھارت حاصل کریں گے۔
پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس منصوبے میں شامل تمام ملکوں کے لیے یہ پائپ لائن بہت اہم ہے اور خاص طور پر پاکستان میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں اس منصوبے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔
’اسی لیے ہماری بھرپور کوشش ہوگی یہ منصوبہ بر وقت مکمل ہو اور خاص طور پر اس منصوبے کو افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے جو ممکنہ خدشات لاحق ہو سکتے ہیں ان کا حل کیا جا سکے۔‘
اس سوال پر کہ پاکستان اس پائپ لائن کو تحفظ دینے کے لیے کیا افغانستان میں متحارب گروہوں، خاص طور پر طالبان شدت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا، وزیر دفاع نے کہا کہ ’ضرور استعمال کریں گے۔ اپنے مفاد کے لیے ہم جو بھی مثبت کردار ادا کر سکے ہم کریں گے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ منصوبہ افغانستان کے لیے بھی بہت اہم ہے اس لیے کوئی بھی افغان فریق اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرے گا۔
انھوں نے 1990 کی دہائی میں اسی نوعیت کے ایک منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے امریکی کمپنی یونیکال کے ذریعے بننے والی گیس پائپ لائن کے تحفظ کی ضمانت دی تھی۔
’ہمیں اب بھی یقین ہے کہ طالبان شدت پسند اس منصوبے کی مخالفت نہیں کریں گے کیونکہ یہ منصوبہ افغانستان کی معاشی بحالی کے لیے بھی اہم ہے اور کوئی بھی افغان گروہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔‘
اس منصوبے کے بروقت مکمل ہو جانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس منصوبے نے مکمل تو ہونا ہے لیکن کچھ تاخیر ممکن ہے۔
’اس پائپ لائن نے بننا تو ضرور ہے۔ اس میں کچھ دیر سویر تو ہو سکتی ہے یعنی اگر 2018 میں نہ مکمل ہوئی تو 2019 میں تو یہ مکمل ہو ہی جائے گی۔‘

Thursday, October 29, 2015

کراچی کے علاقےگلستان جوہرمیں جھگیوں میں آگ لگنے سے5 افراد جاںبحق


ویب ڈیسک ایک منٹ سے پہلے
پولیس نے جھونپڑیوں میں آتشزدگی کی تحقیقات شروع کردی۔:فوٹو:فائل
 کراچی: گلستان جوہر میں جھگیوں میں آگ لگنے سے 4 بچوں سمیت 5 افراد جھلس کر جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھگیوں میں اچانک آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 5 افراد جھلس کرجاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے جنہیں جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جب کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے بروقت جائے وقوعہ پہنچ کردیگر جھونپڑیوں کو جلنے سے بچالیا۔
عینی شاہد کے مطابق ایک جھونپڑی میں کھانا پکاتے ہوئے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دوسری جھونپڑی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جب کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی

Sunday, September 27, 2015

سندھ میں قربانی کی کھالوں سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 356 افراد گرفتار

تبصرے

گرفتار افراد میں سے 288 کو پولیس کے حوالے جب کہ 32 کو رہا کردیا گیا، رینجرز فوٹو: فائل
 کراچی: سندھ رینجرز نے صوبے بھر میں عید الاضحیٰ کے دوران قربانی کی کھالوں سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 236 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان سندھ رینجرز کے جاری کردہ بیان کے مطابق صوبے بھر میں کھالیں جمع کرنے سے متعلق سندھ حکومت کے ضابطہ اخلاق کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے گئے، اس دوران صوبے بھر سے 356 افراد کو گرفتار کرکے 18ہزار 37 کھالیں ضبط کرلیں۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں میں ایم کیو ایم، جماعتِ اسلامی، اہلِ سنت و الجماعت، جماعتہ الادعوۃ، سنی تحریک اور میمن برادری کے افراد شامل ہیں۔
سندھ رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں سے 288 کو پولیس کے حوالے جب کہ 32 کو رہا کردیا گیا تاہم گرفتار ملزمان میں سے 36 مختلف سنگین جرائم میں ملوث ہیں جن سے تفتیش جاری ہے۔

برطانوی اخبارکا سانحہ منیٰ میں 236 پاکستانیوں کی شہادت کا دعویٰ، وزارت مذہبی امور کی تردید

تبصرے

پاکستانی وزارت مذہبی امور نے 19 پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، فوٹو: فائل
برطانوی اخبار نے سانحہ منیٰ میں سب سے زیادہ 236 پاکستانیوں کے شہید ہونے کا دعویٰ کیا ہے تاہم وزارت مذہبی امور نے اس کی تردید کی ہے۔
برطانوی اخبار گارجین کے مطابق منیٰ میں مناسک حج کے دوران بھگدڑ سے شہید ہونے والوں میں 236 پاکستانی ہیں، اس کے علاوہ ایران کے 131، مراکش کے 87، بھارت اورمصر کے 14، 14 ، صومالیہ کے 8، سینیگال کے 5 ، ترکی اور تنزانیہ کے 4،4، الجرائس ، کینیا اور انڈونیشیا کے 3،3 جب کہ برونڈی اور ہالینڈ کا ایک ایک شہری شہید ہوا ہے۔
دوسری جانب وزارت مذہبی امور اور سعودی عرب میں موجود پاکستانی حکام نے برطانوی اخبار کے اس دعوے کی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اخبار نے اس سانحے میں شہید ہونے والے تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے اور غیرتصدیق شدہ اعداد و شمار دیئے ہیں۔وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ہر سال حج کےدوران کچھ لوگ لاپتہ ہوجاتےہیں،حج مشن کے لوگوں پاکستانی حجاج کے کیمپوں میں تصدیق کے لئے بھیجا گیا ہے، پاکستان کے 116 لاپتہ لوگ رات تک مل گئے تھے،امید ہے تمام لوگ مل جائیں گے۔
سردار یوسف نے کہا کہ اب تک جن حجاج کرام کی شہادت کی تصدیق ہوچکی ہے ان کے لواحقین کو سرکاری طور پر آگاہ کردیا گیا ہے، حج کے دوران جولوگ فوت ہوتے ہیں ان کی تدفین یہیں پر کی جاتی ہے، سانحے میں شہید ہونے والوں کو بھی سعودی عرب میں ہی دفنایا جاتا ہے، جب تک تصدیق نہ ہو پاکستانیوں کی تدفین بھی نہیں کی جاسکتی۔
پاکستانی وزارت مذہبی امور نے 19 پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جن میں کراچی کی حفصہ شعیب اور زرین نسیم ، دالبندین کی بی بی زینب ، ایبٹ آباد کے زاہد گل اور بلقیس بی بی ، لکی مروت کی بیگم جان، لاڑکانہ کے ڈاکٹرامیرعلی لاشاری ، لاہور کے حاجی عارف حسین اورمیاں محمد ریاض ، ملتان کے اسد مرتضیٰ گیلانی ، عزیزہ مائی اور ثمرین، کوٹ ادو کے عبدالرحمان اور شہناز بی بی، جھنگ کے سراج احمد سراج ، سانگلہ ہل کے حبیب اللہ اور میرپور آزاد کشمیر کی سیدہ نرجس شہناز شامل ہیں جب کہ 300 سے زائد اب بھی لاپتا ہیں۔

ریندرمودی کی اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر آمد کے موقع پر سکھوں کا احتجاج

 

مظاہرین نے بھارت اور وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ فوٹو:فائل
نیویارک: سکھ علیحدگی پسندوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں “جی 4 ممالک کی کانفرنس” سے خطاب کے موقع پر شدید احتجاج کرتے ہوئے علیحدگی کے لئے 2020 میں ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیکڑوں سکھ علیحدگی پسند وزیراعظم نریندر مودی کی اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں “جی 4 ممالک کی کانفرنس” کی تقریب سے خطاب کے موقع پر جمع ہوگئے جہاں انہوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پرحکومت کی جانب سے پنجاب میں سکھوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لینے اور علیحدہ ملک خالصتان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
مظاہرین نے بھارت اور وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مطالبات پورے کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ سکھ علیحدگی پسندوں کی نمائندگی کرنے والے سربراہ بخشش سنگھ ساندو کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور خاص طور پر عیسائیوں، سکھوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
دوسری جانب بھارتی گجرات کی پٹیل کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے بھی اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاج کیا گیا جب کہ انہوں نے پٹیل کمیونٹی کے لئے آواز اٹھانے والے سرگرم سردار پٹیل سے منسوب ٹوپیاں بھی پہن رکھی تھیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پٹیل کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 4 ہزار سے زائد بے گناہ افراد پولیس کی تحویل میں ہیں جنہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس لئے پولیس حکام کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

راولپنڈی میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق


زخمیوں کو ہولی فیملی اسپتال منتقل کردیاگیا جہاں انکی طبی امداد جاری ہے:فوٹو:فائل
راو لپنڈی: پیرودھائی بس اسٹینڈ کے قریب مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق جب کہ 2 بچے زخمی ہو گئے ۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی میں پیرودھائی بس اسٹینڈ کے قریب ایک مکان کی خستہ حال چھت گرنے سے میاں بیوی اپنے دو بچوں سمیت ملبے تلے دب گئے تاہم امدادی ٹیموں نے پہنچ کر زخمیوں کو ہولی فیملی اسپتال منتقل کردیاگیا جہاں میاں بیوی دم توڑ گئے جب کہ دونوں بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
مکان کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت خاتون خانم اورجبار کے نام سے ہوئی ہے، اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد بروقت اسپتال پہنچائے جاتے تو ان کی جان بچائی جاسکتی تھی۔