Monday, June 22, 2015

Surat Al-Fātiĥah (The Opener) -

Surat Al-Fātiĥah (The Opener) - سورة الفاتحة

Enlarge Text
Shrink Text
1:1
Sahih International
In the name of Allah , the Entirely Merciful, the Especially Merciful.
Malayalam
പരമകാരുണികനും കരുണാനിധിയുമായ അല്ലാഹുവിന്റെ നാമത്തില്‍ .
Urdu
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے
1:2
Sahih International
[All] praise is [due] to Allah , Lord of the worlds -
Malayalam
സ്തുതി സര്‍വ്വലോക പരിപാലകനായ അല്ലാഹുവിന്നാകുന്നു.
Urdu
سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے
1:3
Sahih International
The Entirely Merciful, the Especially Merciful,
Malayalam
പരമകാരുണികനും കരുണാനിധിയും.
Urdu
بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ
1:4
Sahih International
Sovereign of the Day of Recompense.
Malayalam
പ്രതിഫല ദിവസത്തിന്റെ ഉടമസ്ഥന്‍.
Urdu
بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے
1:5
Sahih International
It is You we worship and You we ask for help.
Malayalam
നിന്നെ മാത്രം ഞങ്ങള്‍ ആരാധിക്കുന്നു. നിന്നോട്‌ മാത്രം ഞങ്ങള്‍ സഹായം തേടുന്നു.
Urdu
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں
1:6
Sahih International
Guide us to the straight path -
Malayalam
ഞങ്ങളെ നീ നേര്‍മാര്‍ഗത്തില്‍ ചേര്‍ക്കേണമേ.
Urdu
ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا
1:7
Sahih International
The path of those upon whom You have bestowed favor, not of those who have evoked [Your] anger or of those who are astray.
Malayalam
നീ അനുഗ്രഹിച്ചവരുടെ മാര്‍ഗത്തില്‍ . കോപത്തിന്ന്‌ ഇരയായവരുടെ മാര്‍ഗത്തിലല്ല. പിഴച്ചുപോയവരുടെ മാര്‍ഗത്തിലുമല്ല.
Urdu
ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)

Sunday, June 21, 2015

ماہ پارہ صفدر۔ مدیر حالات حاضرہ ۔ عالمی اخبار

 
لندن میں بی بی سی کی اردو سروس سے منسلک ماہ پارہ صفدر نشریات کی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سرگودھا سے اور اعلیٰ تعلیم جامعہ پنجاب سے حاصل کی جہاں سے انہوں نے انگریزی کا ایم اے کیا اور پھر لندن یونیورسٹی سے وئیمن سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری لی
پاکستان میں ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کی نیوز کاسٹر کے حوالے سے انکی دنیا بھر میں شناخت ہے انکی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز لاہور ریڈیو سے اور پی ٹی وی کے لاہور مرکز سے ہوا اور بعد وہ ریڈیو کے مرکزی بیوز روم اسلام آباد اور پی ٹی وی اسلام آباد سے منسلک رہیں
انیس سو نوے کے اوائل میں انکو بی بی سی اردو سروس لندن کے لیئے منتخب کیا گیا جہاں وہ آج تک مصروف کار ہیں
نشریات کی دنیا میں خدمات کے طور پر اندرون متعدد ایوارڈ مل چکے ہیں
ماہ پارہ صفدر کئی برسوں سے شعر گوئی کے تخلیقی عمل کو اپنائے ہیں لیکن انہوں نے شاعری کی بجائے نشریاتی دنیا کو اپنی پہچان بنایا ہے اور شاعری کو فقط اظہار کے ایک میڈیم تک ہی محدود رکھا ہے۔ انکے والد سید حسن عباس زیدی،سسُر مصطفیٰ علی ھمدانی اور شوہر صفدر ھمدانی ادبی دنیا میں اپنی شناخت رکھتے ہیں لیکن ماہ پارہ صفدر کی ادبی دنیا میں اپنی الگ انفرادیت ہے
ٹی وی ریڈیو کی یاداشتوں پر مشتمل بی بی سی کی ان لائن سیریز کی مقبولیت کے بعد ان دنوں وہ ان یاداشتوں کو کتابی صورت دینے میں مصروف ہیں جو جلد ہی شائع ہو گی
عالمی اخبار پر انکے خبری تجزیے شائع ہوتے رہتے ہیں

داعش کے اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، گذشتہ دو دِنوں کے دوران، عراق اور شام میں مزید 16 فضائی حملے کیے گئے۔

    تازہ ترین اضافہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ اور اتحادی افواج نے داعش کے شدت پسند گروپ کےاہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، گذشتہ دو دِنوں کے دوران، عراق اور شام میں مزید 16 فضائی حملے کیے گئے۔

امریکی فوج نے ہفتے کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ یہ فضائی کارروائیاں جمعے اور ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے صبح کی گئیں، جنھیں ’ آپریشن انہیرنٹ رزالو‘ کا نام دیا گیا ہے۔

لڑاکا طیاروں اور بغیر پائلٹ کے جہازوں کی مدد سے بیجی، فلوجہ، مخمور، موصل، رمادی، سنجار اور تل افار 16 فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن کی منظوری عراق وزارت دفاع نے دی تھی۔
شام میں، اتحادی افواج نے ہساکہ، رقہ اور تل ابیض کے قرب و جوار کو ہدف بنایا، جس دوران گاڑیاں اور لڑائی کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

امریکی حکام کے مطابق، شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کی تباہی سے اس دہشت گرد گروہ کی دہشت گردی اور حربی کارروائیوں کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا گیا۔

..............
..............
عراق کے شمالی اضلاع میں  'داعش' کے خلاف جاری آپریشن میں عراقی سیکیورٹی فورسز نے الانبار، صلاح الدین اور کرکوک گورنریوں میں پیش قدمی کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک سو چوبیس داعشی جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صوبہ دیالی کے گورنر نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ پچھلے تین ماہ میں 22 مختلف دیہات سے نقل مکانی کرنے والے سیکڑوں خاندان گھروں کو واپس آگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واپس آنے والے شہری صلاح الدین گورنری اور دیالی کی سرحد پر پھیلے علاقوں میں موجود اپنے گھروں کو لوٹے ہیں۔

دوسری جانب عالمی اتحادی فوج کے جنگی طیاروں نے جمعہ کے روز البغدادی، الرمادی، فلوجہ اور تلعفر گورنریوں میں سولہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں متعدد جنگجو ہلاک اور ان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

انبار میں داعش کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کے دعوے کے باوجود عراق کے نائب صدر ایاد علاوی نے خبردار کیا ہے کہ مفتوحہ علاقوں میں سیاسی اور عسکری بالادستی کے وجود کا نہ ہونا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ انہوں نے داعش کے خلاف جاری کارروائی میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عراقی فورسز کے داعش کے خلاف آپریشن اور عالمی اتحادی فوج کے درمیان کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے۔ حالانکہ مثبت نتائج کے حصول کے لیے عراقی فوج اور اتحادی ممالک کے درمیان مکمل رابطہ اور ہم آہنگی ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ عراقی سیکیورٹی فورسز نے پچھلے ماہ صوبہ دیالی کے الانبار شہر میں داعش کے خلاف فوجی آپریشن کا اغاز کیا تھا تاہم داعش کے مسلسل حملوں کے باعث عراقی فوج کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام میں کرد فورسز نے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے صدر مقام الرقہ کی جانب سرحدی قصبے تل ابیض سے جانے والے ایک اہم سپلائی روٹ کو منقطع کردیا ہے۔

کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جی) کے ایک کمانڈر حسین خوجر نے ٹیلی فون کے ذریعے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''ان کی فورسز نے شام اور ترکی کی سرحد پر واقع قصبے تل ابیض سے الرقہ کی جانب جانے والی شاہراہ پر قبضہ کر لیا ہے اور تل ابیض کا مکمل طور پر محاصرہ کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب داعش یہاں سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ کرد جنگجوؤں کو شامی باغی گروپوں کی حمایت حاصل ہے اور وہ تزویراتی اہمیت کے حامل اس قصبے کی جانب مشرق اور مغرب سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

وائی پی جی کے ساتھ مل کر لڑنے والے ایک باغی گروپ برکان الفرات کے ترجمان شرفان درویش نے بھی یہ اطلاع دی ہے کہ داعش مخالف اتحاد کے جنگجو قصبے کی جانب دو محاذوں سے پیش قدمی کررہے ہیں۔ان کی داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی ہوئی ہے اورسوموار کو اس گروپ کے انیس جنگجو مارے گئے ہیں۔ داعش کے خلاف اس لڑائی میں کرد فورسز کو امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔تل ابیض میں شدید لڑائی کے پیش نظر آبادی کا بڑا حصہ محفوظ مقامات کی جانب چلا گیا ہے۔

..............
...............
امریکہ نے گزشتہ سال اگست میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف عراق اور شام میں شروع کی گئی کارروائیوں میں اب تک دو ارب 70 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں اور اس کا خرچ روزانہ اوسطاً نوے لاکھ ڈالر تک ہو گیا ہے۔

یہ بات پینٹاگان کی طرف سے اخراجات کی جاری کی گئی تفصیلات میں بتائی گئی۔

محکمہ دفاع کے ان اعداد و شمار کے مطابق اس رقم کا دو تہائی یعنی تقریباً ایک ارب 80 کروڑ ڈالر فضائی کارروائیوں پر صرف ہوا جب کہ دیگر ذرائع سے ہونے والی لڑائی میں روزانہ پچاس لاکھ ڈالر خرچ ہوئے۔

پہلی مرتبہ مخصوص خفیہ کارروائیوں پر اٹھنے والی لاگت کا تذکرہ بھی کیا گیا اور گزشتہ اگست سے اس مد میں دو کروڑ ڈالر خرچ ہوئے۔

یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب کانگریس نے بحث کے بعد اس مسودہ قانون کو مسترد کر دیا، جس کے تحت لڑاکا کارروائیوں پر اخراجات قانون سازوں کی طرف سے ایک نئی قرارداد کی منظوری کے بعد ہی کیے جا سکنے تھے۔فوج کی کارروائیوں میں اخراجات گزشہ اگست میں عراق اور پھر اس کے ایک ماہ بعد شام شروع کیے گئے فضائی حملوں سے بڑھ گئے ہیں۔ پینٹاگان کی جاری کی گئی خرچ کی تفصیلات میں 43 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بحریہ کے ہیں جس میں جنگی اور دیگر جہازوں کے اخراجات ہیں، فوج پر 27 کروڑ چالیس لاکھ ڈالر خرچ ہوئے جو کہ عراق میں زمینی افواج کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔

دو کروڑ دس لاکھ ڈالر کی رقم انٹیلی جنس اور نگرانی کی سرگرمیوں پر صرف ہوئی۔

شدت پسند گروپ داعش نے گزشتہ سال عراق اور شام کے مختلف حصوں پر قبضہ کر کے وہاں خلاف کا اعلان کر رکھا ہے اور یہ گروپ بڑے پیمانے پر قتل و غارت میں ملوث ہے۔

صدر براک اوباما داعش کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

:دیگر مضامین
(21.06.2015) یوم پناہ گزیں: ’رواداری‘ اور ’سفارت کاری‘ کو فروغ دینے پر زور
(20.06.2015) امریکی صدر باراک نےاسلحہ پرپابندی کےقوانین میں ترمیم کاعزم کرلیا
(20.06.2015)  سرینگر:حریت کانفرنس کی ریلی سے قبل کرفیو نافذ ،سیدگیلانی گرفتار
(19.06.2015) سعودی عرب نے روس کے ساتھ جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے 6 سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں۔
(19.06.2015) امریکہ کے ایک  گرجا گھر میں فائرنگ کا ملزم گرفتارکر لیا گیا ہے
(19.06.2015) جنوبی کیرولینا میں چرچ میں فائرنگ ،ہلاکتیں9 ہوگئیں
(18.06.2015) روس ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہا، نیٹو کمانڈر کا الزام
(17.06.2015) افغانستان میں داعش جڑیں پکڑ رہی ہے: گورنر صوبہٴفرح
(17.06.2015)  روہنگیا مسلمان سب سے زیادہ مظلوم قوم ہیں، برطانوی جریدہ
(16.06.2015) بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے رہنما کی سزائے موت برقرار
(16.06.2015) اپنی سرحد پر امریکی ہتھیار برداشت نہیں کریں گے، روس کا انتباہ
(15.06.2015) امریکہ اندازہ لگا رہا ہے کہ آیا لیبیا میں ہونے والے فضائی حملے میں القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند کمانڈر مختار بلمختار ہلاک ہوا ہے۔
(15.06.2015) پولینڈ نے بتایا ہے کہ اس کے  امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں
(15.06.2015) افغانستان: بم دھماکے میں ضلعی چیف سمیت 4 ہلاک
(14.06.2015) میانمار کے مسلمانوں کیلیے اقوامِ متحدہ کی اپیل
(14.06.2015) جوہری ڈیل کی تفصیلات پر اختلافات دور نہیں ہو سکے، ایرانی صدر
(13.06.2015) ہندو زائرین کی بس دریا میں گرنے سے 21 ہلاک ہو گئے
(13.06.2015) امریکہ: ایوان کی مخالفت، ٹریڈ اتھارٹی بِل تاخیر کا شکار
(12.06.2015)  نیویارک: دہشتگردی کے الزام میں 2پاکستانی بھائیوں کو سزادیدی گئی
(12.06.2015) سابق ایرانی صدر رفسنجانی کے بیٹے کو 10 سال قید کی سزا


 

الجزیرہ کے صحافی احمد منصور کو برلن ایئر پورٹ پر گرفتار کیا گیا ہے


مصر کی عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے وارنٹ گرفتاری پر قطر کے عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے صحافی کو جرمنی میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق الجزیرہ چینل کے صحافی احمد منصور کو اس وقت گرفتار کیا گیا ہے جب وہ قطر ایئر لائنز کے ذریعے برلن سے دوحہ جارہے تھے۔

الجزیرہ چینل کے صحافی احمد منصور کا نام لیے بغیر جرمن پولیس کے ترجمان مائک گروئر نے کہا ہے کہ حکام کی جانب سے 52 سالہ مصری نژاد برطانوی صحافی کو گرفتار کیا ہے اور وکیل ان کے وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے اتوار کو غور کریں گے۔

ہفتے کے روز رات گئے احمد منصور نے اپنے سوشل میڈیا آکاونٹ پر پیغام دیا ہے کہ انھوں نے جرمن حکام کو انٹر پول کی وہ ای میل دیکھائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ان کے لیے مطلوب نہیں ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے رپورٹ کیا تھا کہ انٹر پول نے مصری حکومت کی جانب سے منصور کی گرفتاری کے لئے ریڈ نوٹس جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

احمد منصور نے حال ہی میں القاعدہ کی شام میں لڑنے والی ذیلی تنظیم النصرہ فرنٹ کے سربراہ کا انٹر ویو کیا ہے۔

یاد رہے کہ 2011ء میں مصر کے دارالحکومت قائرہ کے تحریر اسکوئر پر ایک نامعلوم غیر مسلح وکیل پر تشدد کرنے کے الزام میں احمد منصور کو 15 سال کی قید سنائی گئی ہے۔

مصری فوج کی جانب سے 2013ء میں قطر کے حمایت یافتہ اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کے باعث کے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

واضح رہے کہ دسمبر 2013 میں مصر کی سیکیورٹی فورسز نے ایک ہوٹل پر کارروائی کے دوران ’الجزیرہ انگریزی‘ کے زیر استعمال ایک کمرے سے 3 صحافیوں کو گرفتار کیا تھا اور ان پر دہشت گردوں کا ساتھ دینے اور قومی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

کینڈا کے شہریت رکھنے والے قائم مقام بیوروچیف محمد فہمی اور مصری پروڈیوسر باہر محمد کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے جبکہ آسٹریلین صحافی پیٹر گریسٹ کو رواں سال فروری میں ملک بدر کیا جاچکا ہے

عام انتخابات کے بعد الیکشن ٹریبونلز میں 26 کیسز ابھی بھی زیرالتو

 
 عام انتخابات کے بعد الیکشن ٹریبونلز میں 26 کیسز ابھی بھی زیرالتواء ہیں جن فیصلے اصولاً چار ماہ کے اندر آجانے چاہیے تھے۔

ان ٹریبونلز کو تین جون 2013 کو تشکیل دیا گیا تھا جن میں زیریں عدلیہ کے ججز تعینات ہیں۔

ان ٹریبونلز کو اس امید کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا کہ عدلیہ کے کاموں سے آزاد یہ جج چار ماہ کے اندر فیصلے کرسکیں گے۔

پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ فیصلوں پر ڈیڈلائن مقرر کی گئی تھی۔

تاہم اہداف حاصل نہ کیا جاسکے اور ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے تقرر کردہ ٹریبونلز کو توسیع ملتی رہی۔

آخری توسیع کی مدت 30 جون کو ختم ہوجائے گی جس کے الیکشن کمیشن کو انہیں ایک اور توسیع دینی پڑے گی۔

2008 کے انتخابات کے مقابلے میں 2013 کے الیکشنز کے بعد زیادہ درخواستیں جمع کروائی گئی تاہم حیران کن طور پر ٹریبونلز کی تعداد کم کردی گئی۔

2008 کے الیکشنز کے بعد 31 ٹریبونلز قائم کیے گئے تھے جبکہ پیٹیشنز کی تعداد 272 تھی۔ 2013 کے انتخابات کے بعد درخواستوں کی تعداد 411 تھی جبکہ ٹریبونلز صرف 14 قائم کیے گئے۔

ایک موقع پر ٹریبونلز کی تعداد کو دوگنا کرنے کی تجویز دی گئی تاہم اسے منظور نہیں کیا گیا۔

فافن کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی 2015 میں ٹریبونلز نے آٹھ کیسز پر فیصلہ سنایا جس کے بعد فیصلہ کیے گئے کیسز کی تعداد 385 ہوگئی۔ ان میں سے 359 کیسز پر ٹریبونلز نے فیصلہ سنادیا ہے جبکہ 26 الیکشن کمیشن نے خارج کردیے ہیں۔

زیادہ تر درخواستیں ہارنے والے امیدواروں نے درج کروائیں تاہم تین ووٹرز نے بھی درج کروائیں۔

آزاد امیدواروں نے 99 جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدواروں نے 66 درخواستیں جمع کروائیں جن میں 12 پاکستان تحریک انصاف اور 14 پاکستان پیپلز پارٹی کے جیتنے والے امیدواروں کے خلاف جمع کروائی گئیں۔

تحریک انصاف نے 58 پیٹیشنز جمع کروائیں جن میں 43 ن لیگ کے فاتح امیدوار کے خلاف درج کروائی گئیں جبکہ ایک پی پی پی کے بھی خلاف جمع کروائی گئی۔

پی پی پی نے 50 درخواستیں جمع کروائیں جن میں 19 ن لیگ اور ایک پی ٹی آئی کے امیدوار کے خلاف جمع کروائی گئیں۔

متحدہ کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دے دی گئی ہے


 
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے کو چیئرمین آصف علی زرداری نے ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دے دی۔

متحدہ قومی موومنٹ کی لندن اور پاکستان کی رابطہ کمیٹی سندھ حکومت میں شمولیت سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے 2 دن پہلے اسلام آباد میں دیئے جانے والے افطار ڈنر میں ایم کیو ایم کے وفد کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دی۔

آصف زرداری اور الطاف حسین کے ٹیلی فونک رابطے نے بھی دونوں جماعتوں کےدرمیان قریب آنے میں بھی اہم کردارادا کیا۔

 پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ میں ایم کیو ایم کو اہم وزارتیں دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 6 اکتوبر 2014 کو نماز عید کی ادائیگی کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ الطاف انکل! اپنے نامعلوم افراد کو سنبھالیں، اگر میرے کارکنوں پر آنچ بھی آئی تو لندن پولیس کیا، میں آپ کا جینا حرام کردوں گا۔

بعد ازاں 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کراچی میں 20 سال حکمرانی کر رہی ہے اور جو کچھ کراچی کے ساتھ ہوا اس کو سب نے دیکھا، کراچی میں دھاندلی ہوتی ہے، 2018 میں انتخابات میں شفاف انتخابات میں کراچی کو آزادی ملے گی۔

بلاول بھٹو کے اس خطاب کے اگلے روز 19 اکتوبر 2014 کو متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کیا۔

ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ نائن زیرو پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا تھا کہ ہم اپنے حصے کا سفر کر چکے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے بعد ساتھ چلنے کا جواز نہیں بچتا، اب ہم سندھ حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا مطلب جمہوریت کے خلاف قدم اٹھانا ہے، پی پی پی کے ہاتھ مضبوط کرنے کا مطلب پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

عدن شہر میں اتحادی فوج کے طیاروں نے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر 15 حملے کیے جسکے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا۔



یمن تازہ ترین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ایک مقرب ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز جنوبی یمن کےعدن شہر میں اتحادی فوج کے طیاروں نے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر 15 حملے کیے جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔

ادھر حوثی ملیشیا کی جانب سے بھی عدن میں عام شہری آباد پر راکٹ حملے کیے گئے جن میں چار شہریوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

عالمی خبررساں ادارے "اے ایف پی" نے عدن کے ڈپٹی گورنر نائف البکری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے غذائی سامان سے لدا ایک بحری جہاز یمن بھیجا ہے جسے حوثی باغیوں نے روک لیا ہے اور بحری جہاز کو متاثرین تک امداد پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب حوثیوں کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ امدادی جہاز کا راستہ دانستہ طور پر مغربی بندرگاہ الحدیدہ کی جانب موڑا گیا ہے تاکہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے باشندوں کو خوراک کی سپلائی روکی جاسکے۔

............
............
جنیوا میں یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی اور نگرانی میں امن مذاکرات کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔

یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ریاض یاسین نے کہا ہے کہ سوئس شہر میں مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق بھی کوئی سمجھوتا نہیں ہوا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے جنیوا میں حوثیوں کے نمائندوں ،سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس اور سعودی عرب میں جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کے اتحادیوں کے ساتھ باری باری بات چیت کی ہے تاکہ انھیں ملک میں جاری خونریزی کو رکوانے کے لیے کسی سمجھوتے پر آمادہ کیا جاسکے۔

ان متحارب فریقوں نے جمعہ کو بھی مذاکرات کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھنے سے انکار کردیا تھا اور انھوں نے کسی قسم کی مفاہمت کا بھی کوئی اشارہ نہیں دیا تھا۔

سابق صدر علی صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے وفد کے رکن یحییٰ ضوائد نے کہا کہ ''ہم آج کی ملاقاتوں کے بارے میں پُرامید تھے اور ہم نے اقوام متحدہ کی تجاویز کو سنا ہے لیکن بدقسمتی سے وہ جو کچھ تجویز کررہے ہیں،وہ اس معیار کا نہیں ہے جس کی ہم توقع کررہے تھے''۔

اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوزی نے قبل ازیں جنیوا میں مذاکرات میں توسیع کی اطلاعات کی بھی تردید کی تھی۔انھوں نے کہا کہ جلاوطن حکومت کا وفد ہفتے کو جنیوا سے روانہ ہونے والا ہے اور حوثی وفد اتوار کو روانہ ہوجائے گا۔اس سے پہلے کے وقت تک ہی بات چیت میں توسیع کی جاسکتی تھی۔

یمن کے متحارب فریقوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ان مذاکرات کے دوران جنگ بندی کی ضرورت سے اتفاق کیا تھا لیکن ان کے درمیان اس کی تفصیل پر اختلافات طے نہیں ہوسکے تھے۔

حوثیوں نے مذاکرات سے قبل انسانی بنیاد پر جنگ بندی کے اعلان کے مطالبہ کیا تھا اور یمنی حکومت نے مشروط طور پر اس سے اتفاق کیا تھا۔اس نے یہ شرط عاید کی تھی کہ حوثی اور ان کے حامی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپریل میں منظور کردہ قرارداد نمبر 2216 کی پاسداری کریں۔اس میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ تمام علاقوں کو خالی کردیں۔
سعودی اتحادیوں کے فضائی حملے

درایں اثناء سعودی عرب کی قیادت میں لڑاکا طیاروں نے یمنی دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کی اتحادی ری پبلکن گارڈ فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔صنعا کے نواحی جنوبی علاقے کے مکینوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے ری پبلکن گارڈز کے السواد کیمپ پر تین فضائی حملوں کی آوازیں سنی ہیں۔

اتحادی طیاروں نے صنعا سے جنوب مشرق میں واقع علاقے خولان پر تین فضائی حملے کیے ہیں اور صوبہ الجوف کے علاقے الہزم میں حوثیوں کی اتحادی ایک سو پندرھویں انفینٹری بریگیڈ کے کیمپ پر چھے حملے کیے ہیں۔جنوبی شہر عدن میں بھی حوثی کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔

ان علاقوں کے مکینوں نے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں دی ہے لیکن حوثیوں کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے صعدہ کے علاقے رازح میں فضائی حملوں میں نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
..............
.............
العربیہ' نیوز چینل نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ نے جنیوا میں یمن کی جلاوطن حکومت اور  یمنی ملیشیا کے نمائندوں کے درمیان معطل شدہ مذاکرات جمعہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مذاکرات میں شامل فریق ایک دوسرے پر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ مذاکرات کی مدت میں توسیع کا فیصلہ ابتدائی طور پر مخصوص 48 گھنٹوں کا وقت ختم ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد سامنے آیا۔

ذرائع کے مطابق یمنی ملیشیا کے وفد نے سویئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں فضائی حملے محدود کرنے والی جنگ بندی کی بات تو کی تاہم انہوں نے زمین پر جاری مخاصمت روکنے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس تجویز کو یمن کی آئینی حکومت نے مسترد کرتے ہوئے مکمل فائر بندی پر زور دیا۔ یمن کی متحارب جماعتوں کا فائر بندی پر تو اتفاق ہے لیکن اس کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔

جنیوا سے العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا کہ حوثیوں نے مذاکرات سے پہلے انسانی بنیادوں پر فائر بندی کی درخواست کی تھی۔ یمنی حکومت نے اس شرط پر یہ مطالبہ ماننے کا عندیہ دیا تھا کہ حوثی اور ان کے حامی اپریل میں اقوام متحدہ میں منظور کی جانے والی قرارداد 2216 کا پاس کریں گے۔ سیکیورٹی کونسل کی اس قرارداد کے بموجب حوثی شہروں سے انخلا اور لوٹا گیا سرکاری اسلحہ کو واپس کرنے کے پابند ہیں۔

گذشتہ پیر کو یو این سیکرٹری جنرل بین کی مون نے جنیوا مذاکرات کا افتتاح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے آغاز پر یمن میں انسانی بنیادوں پر جنگ بند کی جائے کیونکہ یہ خطہ پہلے ہی غربت اور بے روزگاری کے باعث تباہی کا شکار ہے۔

...................
...................
یمن کے متحارب فریقوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات کے دوران جنگ بندی کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے لیکن ان کے درمیان اس کی تفصیل پر ابھی تبادلہ خیال جاری ہے۔

جنیوا سے العربیہ نیوز کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حوثیوں نے مذاکرات سے قبل انسانی بنیاد پر جنگ بندی کے اعلان کے مطالبہ کیا ہے اور یمنی حکومت نے مشروط طور پر اس سے اتفاق کیا ہے اور اس نے یہ شرط عاید کی ہے کہ حوثی اور ان کے حامی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپریل میں منظور کردہ قرارداد نمبر 2216 کی پاسداری کریں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد جنیوا میں یمن کے مختلف دھڑوں کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کررہے ہیں تاکہ ان میں موجود اختلافات کی خلیج پاٹی جاسکے۔یمن کے متحارب فریق ایک دوسرے کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے سے گریزاں ہیں اور وہ مختلف ایجنڈے پیش کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے سوموار کو جنیوا میں یمنی فریقوں کے درمیان امن بات چیت کا افتتاح کرتے ہوئے رمضان المبارک کے آغاز سے قبل فوری طور پر دوہفتے کے لیے جنگ بندی پر زوردیا تھا تاکہ جنگ سے متاثرہ یمنیوں کو انسانی امداد بہم پہنچائی جاسکے۔انھوں نے کہا کہ ''دو روز کے بعد رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے اور یہ ہم آہنگی ،امن اور مصالحت کا عرصہ ہونا چاہیے''۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی نگرانی اور ثالثی میں اتوار کو یمن امن مذاکرات کا آغاز ہونا تھا لیکن عالمی ادارے نے اس میں ایک دن کی تاخیر کردی تھی اور حوثیوں کا وفد سوموار کو پہنچنے کے بعد ان سے مشاورتی عمل کا آغاز کیا گیا تھا۔

قبل ازیں یمن کے سعودی عرب میں جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت حوثی باغیوں کے ساتھ مذاکرات میں سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد پر ہی تبادلہ خیال کرے گی۔اس قرارداد میں حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کردیں۔

سعودی عرب کے شہر جدہ میں منگل کو اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کے منعقدہ غیرمعمولی اجلاس کے موقع پر انھوں نے کہا کہ ''جنیوا میں ہمارا وفد قرارداد 2216 کے اطلاق سے متعلق شرائط ہی پر تبادلہ خیال کرے گا''۔

اس قرارداد میں حوثیوں سے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرنے کے علاوہ سلامتی کونسل نے صدر منصور ہادی کی حکومت کو قانونی اور یمنی عوام کی نمائندہ تسلیم کیا تھا اور اس نے حوثیوں سے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ یمنی فوج سے چھینے گئے ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائیں۔ کونسل نے حوثیوں پر اسلحے کے حصول کے علاوہ مختلف پابندیاں عاید کردی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے آئے حوثی وفد اور علی صالح کے حامیوں کو انسانی حقوق کی پامالی کی پاداش میں "عالمی اشتہاری" قرار دیا جائے

یمن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اقوام متحدہ اور سوئٹزرلینڈ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے آئے حوثی وفد اور علی صالح کے حامیوں کو انسانی حقوق کی پامالی کی پاداش میں "عالمی اشتہاری" قرار دے کر انہیں گرفتار کریں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں سابق صدر علی صالح اور شیعہ مسلک کے حوثی باغی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔

یمن کے انسانی حقوق کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق گروپوں نے علی صالح اور حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی اور ان کے معاونین کو عالمی اشتہاریوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے یمن کے علاقوں عدن، تعز، ضالع اور لحج میں حوثیوں اور علی صالح کی حامی ملیشیا کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں اور نہتے شہریوں کے قتل عام کے ثبوت بھی اقوام متحدہ کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
...........
.........
یمن کی آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے معزول صدر علی عبداللہ صالح اورحوثیوں کے درمیان ملکی بحران حل کے لئے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے پر اختلاف ہو گیا۔

'العربیہ' ذرائع کے مطابق اسی اختلاف کے نتیجے میں باغی عبداللہ صالح اور حوثیوں کے وفد جنیوا نہیں گئے۔ انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا طیارہ صنعاء سے صالح اور حوثیوں کے وفد کے بغیر روانہ ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق یمنی حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے وفود جنیوا پہنچ گئے۔ سولہ ملکوں کے سفیر بھی یمن بحران سے متعلق مذاکرات میں شرکت کے لئے جنیوا پہنچے ہیں۔

یمن میں 'فیصلہ کن طوفان' آپریشن کے ترجمان نے ہفتے کو بتایا تھا کہ جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لئے صنعاء سے وفود کو لیکر جانے کے لئے اقوام متحدہ کا ای