افغانستان
میں کام کرنے والے ایک سینیئر امریکی فوجی کمانڈر کا کہنا ہے کہ افغانستان
میں دولت اسلامیہ سے منسلک جنگجو شام میں اس شدت پسند تنظیم کی قیادت سے
رابطے میں ہیں۔
افغان سپیشل فورس کو تربیت دینے والی ایک اکائی کے
سربراہ جنرل شان سوئنڈل نے کہا کہ غیر مطمئن طالبان جنگجوؤں نے ایک
’فرینچائز‘ قائم کر لی ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ افغانستان میں اس قدر سنجیدہ نہیں ہے جس قدر وہ لیبیا یا عراق میں ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران مشرقی افغانستان میں نئے گروپ اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
طرفین
نے اتحاد کی اپیل کو مسترد کر دیا اور جنگ ننگرہار صوبے کے کئی اضلاع میں
پھیل گئی جو کہ تورا بورا کے غاروں والے علاقے سے زیادہ دور نہیں جہاں کبھی
القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن چھپے تھے۔
دولت اسلامیہ کے اہم
گروپ سے منسلک ویب سائٹ کے بعض حصے اب مکمل طور پر ’خراسان میں دولت
اسلامیہ‘ کے
سی ویب سائٹ پر ایک حالیہ بیان میں طالبان جنگجوؤں کو دولت اسلامیہ میں شامل نہ ہونے کی صورت میں موت کی دھمکی دی گئی ہے۔
اس
پوسٹ میں کہا گیا ہے: ’آپ دولت اسلامیہ سے جنگ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا آپ
اپنی قبر خود کھودنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا سر تن سے جدا
کیا جائے اور آپ کے گھر تباہ کر دیے جائیں۔ کیا آپ کو یہ گمان ہے کہ آپ
عراقی ملیشیا سے زیادہ طاقت ور ہیں جن کی پشت پر امریکہ کھڑا ہوا تھا؟‘
بظاہر یہ پوسٹ طالبان کی براہ راست اتحاد کی اپیل کا منھ توڑ جواب ہے۔
طالبان
نے دولت اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی کے نام ایک بیان میں کہا تھا کہ
افغانستان کی جنگ میں ’دو پر چم‘ نہیں لہرا سکتے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا
کہ اس سے ’مجاہدین کی قوت منقسم ہو کر رہ جائے گی۔‘
طالبان نے دولت اسلامیہ کے رہنما کے نام پیغام بھیجا تھا
لیکن اس کے برعکس ننگرہار کے
معرکے میں دولت اسلامیہ کے حامیوں کو طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کو قتل
کرنے کے لیے لوگوں پر زور دیتے ہوئے دیکھا گيا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ایک
خلیفہ بغدادی ہے ہی تو دوسرے کی ضرورت کیا!
’خراسان میں دولت اسلامیہ‘ کی پہلی علامت پاکستان کے سرحدی علاقے میں جنوری میں نمودار ہوئی تھی۔
کئی سابق طالبان جنگجو جن میں ایک افغان کمانڈر بھی شامل تھے انھوں نے نئے گروپ سے اعانت کا عہد کیا تھا۔
اب
دولت اسلامیہ کی دھمکیوں کے شواہد کے طور پر طالبان جنگجوؤں کی سر قلم شدہ
اور گولی ماری ہوئی تصاویر افغانستان اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر نظر آ
رہی ہیں۔
’خراسان میں دولت اسلامیہ‘ کی پہلی علامت پاکستان کے سرحدی علاقے میں جنوری میں نمودار ہوئی تھی
یہ نئی معرکہ آرائیاں افغان
فورسز کے لیے پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز ہوں گی کیونکہ انھیں پہلی بار زمین پر
بغیر بین الاقوامی فوجیوں کے تعاون کے گرمیوں کی جنگ سے سابقہ ہوگا۔
جنرل
سوئنڈل نے کہا کہ افغان کی سپیشل فورس ہر ہفتے تقریبا 130 چھاپے مار رہی
ہے جن میں سے معدودے چند میں ہی بین الاقوامی فوجیوں کا تعاون حاصل تھا اور
وہ بھی منصوبہ بندی اور کنٹرول روم تک محدود تھا۔
جنرل سوئنڈل نے کہا کہ مغربی صوبہ فراہ بھی اس نئی تحریک کے خطرے سے دوچار ہے۔ وہ لوگ طالبان کے ساتھ وسائل کے لیے مقابلے میں ہیں۔
اس
نئی تحریک نے افغانستان کے شہریوں کو نئی پریشانیوں میں ڈال دیا ہے اور
ننگرہار کی جنگ سے بچنے کے لیے ہزاروں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور
ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ رواں سال ملک میں اب تک چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
انڈونیشیا میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مال بردار فوجی طیارہ شمالی سماٹرا میں شہری علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔
اس حادثے میں اب تک پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے تاہم اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ منگل کو مدان نامی شہر میں پیش آیا جہاں چار انجن والا ہرکیولیس طیارہ آباد رہائشی آبادی پر گر گیا۔
فوج
کے ایک ترجمان فواد باسیا نے کہا ہے کہ طیارہ دوپہر بارہ بج کر آٹھ منٹ پر
فضائیہ کے اڈے سے اڑا تھا اور دو منٹ بعد ہی پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر شہر
میں گر کر تباہ ہوگیا۔
مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق طیارہ دو مکانات اور ایک کار پر گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔
فوجی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے پر عملے کے کم از کم 12 افراد سوار تھے اور اب تک پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
ان
کا کہنا تھا کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ اس حادثے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے
ہیں اور آیا زمین پر بھی کوئی شخص اس حادثے میں مرا ہے یا نہیں۔
حادثے
کے بعد جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں لیکن شدید آگ اور
دھوئیں کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو مشکلات درپیش ہیں۔
انڈونیشیا میں ماضی میں بھی فوجی مال بردار طیاروں کے گرنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
سنہ 2009 میں جکارتہ سے مشرقی جاوا جانے والے سی 130 ہرکیولیس طیارے کے حادثے میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انڈونیشیا کی فضائیہ ماضی میں کہتی رہی ہے کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے اسے بہت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
طیارہ دو مکانات اور ایک کار پر گرا اور اس میں آگ لگ گئی
انڈونیشیا میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مال بردار فوجی طیارہ شمالی سماٹرا میں شہری علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔
اس حادثے میں اب تک پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے تاہم اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ منگل کو مدان نامی شہر میں پیش آیا جہاں چار انجن والا ہرکیولیس طیارہ آباد رہائشی آبادی پر گر گیا۔
فوج
کے ایک ترجمان فواد باسیا نے کہا ہے کہ طیارہ دوپہر بارہ بج کر آٹھ منٹ پر
فضائیہ کے اڈے سے اڑا تھا اور دو منٹ بعد ہی پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر شہر
میں گر کر تباہ ہوگیا۔
مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق طیارہ دو مکانات اور ایک کار پر گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔
فوجی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے پر عملے کے کم از کم 12 افراد سوار تھے اور اب تک پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
ان
کا کہنا تھا کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ اس حادثے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے
ہیں اور آیا زمین پر بھی کوئی شخص اس حادثے میں مرا ہے یا نہیں۔
حادثے
کے بعد جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں لیکن شدید آگ اور
دھوئیں کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو مشکلات درپیش ہیں۔
انڈونیشیا میں ماضی میں بھی فوجی مال بردار طیاروں کے گرنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
سنہ 2009 میں جکارتہ سے مشرقی جاوا جانے والے سی 130 ہرکیولیس طیارے کے حادثے میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انڈونیشیا کی فضائیہ ماضی میں کہتی رہی ہے کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے اسے بہت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
بھارت
میں تہاڑ جیل سے دو قیدی فرار ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں قیدی جیل
کی ایک دیوار پھلانگ کر اور دوسری دیوار کے نیچے سرنگ کھود کر فرار ہوئے
ہیں۔
چوری کے الزام میں قید فیضان اور جاوید کے فرار کے بارے میں جیل حکام کو اتوار کے روز اس وقت پتہ چلا جب وہ حاضری کے لیے نہیں پہنچے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ایک قیدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
ایشیا کی سب سے بڑی خیال کی جانے والی تہاڑ جیل میں دہشت گردوں سمیت دیگر خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب تہاڑ جیل سے کوئی قیدی سرنگ کھود کر فرار ہوا ہے۔
بھارتی
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق قیدیوں نے فلمی انداز میں جیل سے فرار کی
مکمل منصوبہ بندی کی تھی۔ اخبار کے مطابق قیدیوں نے جیل کی اندرونی دیوار
کو پہلے پھلانگا اور پھر بیرونی دیوار کے نیچے سرنگ کھود کر فرار ہوئے۔
تاہم حکام کے مطابق اس بارے میں تفصیلاً تحقیقات کی جا رہی ہیں کے قیدی کیسے فرارہوئے۔
خبرساں
ادارے اے ایف پی کے مطابق تہاڑ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل مکیش پرساد کا کہنا
ہے کہ ’وہ ہفتے یا اتوار کو کسی وقت فرار ہوئے۔ ہم یہ پتا لگا کر رہیں گے
کہ وہ کیسے فرار ہوئے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کب اور کیسے فرار ہوے۔‘
واضح رہے کہ تقریباً 6 ہزار کی گنجائش والی اس جیل میں 13 ہزار سے زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بھی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ قیدی سکیورٹی پر مامور عملے کو چکمہ دینے میں کیسے کامیاب ہوے۔
افغان عدالت میں ڈی این اے ثبوت فراہم کرنے کے عمل نے اس مقدمے کو انتہائی غیرمعمولی بنا دیا ہے
افغانستان
میں ایک عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ڈی این اے کے شواہد کی بنیاد پر
ایک شخص کو اپنی ہی بیٹی کے ساتھ ایک سے زائد مرتبہ ریپ کرنے کا مجرم
ٹھہرایا ہے۔
ریپ کا شکار بننے والی خاتون کے دو بچے ہیں، اور انھیں
دس سال تک زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ان کے تحفظ کی وجہ سے ان کا نام
ظاہر نہیں جا سکتا۔
افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات
پیش آتے رہتے ہیں اور اکثر اوقات الٹا جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں کو
’اخلاقی جرائم‘ کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔
میں جنسی تشدد کا
شکار ایک خاتون سے ملا، اس کی عمر 20 سال سے کچھ زیادہ تھی اور گذشتہ سال
پہلی مرتبہ اس کے والد کے خلاف مقدمے کو عدالت نے ڈی این ای ثبوت پیش کرنے
کا کہتے ہوئے خارج کر دیا تھا۔
وہ جنسی زیادتی کی بنا پر حاملہ تھیں اور ایک چار سالہ بچہ ان کی گود میں تھا۔
ان
کا کہنا تھا: ’یہ میری بیٹی ہے اور میرے باپ کی بیٹی ہے۔ یہ میرے والد کا
مجھے ریپ کرنے کا نتیجہ ہے۔ ہم بیک وقت ماں بیٹی اور بہنیں ہیں۔‘
انھیں دس سال تک زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا
وہ جس گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہیں وہیں انھوں نے مجھے گذشتہ سال عدالت میں پیش کی گئی اپنی کہانی بیان کی۔
ان کے مطابق زیادتی اس وقت شروع ہوئی جب ان کے والد آٹھ سال بعد ایران سے واپس آئے، اس وقت ان کی عمر 12 سال تھی۔
وہ
بتاتی ہیں: ’مجھے توقع تھی کہ میرے والد بھی مجھے اسی طرح پیار کریں گے جس
طرح میرے ماموں یا چچا اپنے بچوں کو پیار کرتے ہیں کیونکہ میں ان تمام
برسوں میں اپنے والد کے پیار کی پیاسی تھی، میں اس سے محروم رہی تھی۔‘
وہ کہتی ہیں: ’لیکن جب میں نے خود کو اپنے والد کی بانھوں میں پایا تو یہ کچھ زیادہ ہی تھا۔‘
وہ یاد کرتی ہیں کہ جب وہ انھیں چھوتے تھے تو انھیں اچھا محسوس نہیں ہوتا تھا۔
’میں
اپنی دادی کے پاس گئی اور ان سے شکایت کی لیکن انھوں نے مجھ پر الزام
لگایا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ہر باپ اپنے بچوں سے لاڈ پیار کرتا ہے۔‘
ایک
رات ان کے والد نے انھیں ریپ کر دیا: ’میں بہت بری طرح ڈری ہوئی تھی، میں
صدمے میں تھی اور کمرے کے ایک کونے میں لیٹ گئی اور نہیں جانتی تھی کہ کیا
کروں۔‘
افغانستان میں عموماً خواتین جنسی جرائم کے خلاف عدالتوں سے رجوع نہیں کرتیں
جب وہ حاملہ ہوئیں تو ان کے والد
نے خاندان کو دوسرے صوبے میں منتقل کر دیا۔ بچہ پیدا ہوا لیکن والد نے لے
لیا اور پھر کبھی انھوں نے نہیں دیکھا۔
یہ زیادتی دس سال سے زائد
عرصہ جاری رہی، جس دوران وہ کئی مرتبہ حاملہ ہوئیں اور بچہ گرایا گیا۔ وہ
کہتی ہیں کہ ان کے والد کئی قسم کی ادویات استعمال کرواتے تھے جو انھیں بعد
میں پتہ چلا کہ یہ امتناعِ حمل کی کوششیں تھیں۔
پھر ایک اور بچہ
پیدا ہوا۔ ’میں جب دوبارہ حاملہ ہوئی تو میں نے بچہ نہیں گرایا۔‘ وہ کہتی
ہیں: ’میں اپنے والد کے خلاف اسے ثبوت کے طور پر رکھنا چاہتی تھی۔ میرا بچہ
ہی میرا واحد ثبوت تھا۔‘
اپنی ماں کی مدد سے وہ زیادتی کے سلسلے کو
ختم کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ انھوں نے بتایا آخری حملہ گذشتہ سال جولائی
میں عید سے ایک دن پہلے ہوا تھا۔
’میں نے اور میری ماں نے پوری کہانی
مولوی، آس پاس کے بزرگوں اور ڈسٹرکٹ پولیس کو بتائی اور انھوں نے کہا کہ
اگر دوبارہ حملہ ہوتا ہے تو انھیں بتائیں۔‘
اس رات ان کے والد نے ان
کی والدہ کو اپنی بیٹی پر حملہ کرنے سے قبل گھر سے باہر بھیجا۔ ان کے والد
کو گرفتار کر لیا گیا کیونکہ ان کی والدہ پولیس اور بزرگوں کے ہمراہ بطور
عینی شاہد آگئی تھیں۔
زیادتی کا شکار خاتون نے غیرمعمولی قدم اٹھاتے
ہوئے افغان ٹیلی وژن پر اپنی کہانی سنائی، خواتین کے حقوق سے منسلک کارکنوں
نے ان کی مدد کی
آخر کار اس شخص پر مقدمہ چل پڑا لیکن بیٹی کو کڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔
ان
کے والد نے تمام الزامات سے انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی کے
دوسرے مردوں سے غیرازدواجی تعلقات ہیں۔ زیادتی کا شکار خاتون اب عدالت کے
سامنے جواب دہ تھی۔
انھوں نے مجھے بتایا: ’جج نے مجھ سے سوال کیا کہ
میں نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو مار کیوں نہیں دیا؟ میں نے جواب دیا کہ
اگر میں بچے کو مار دیتی تو مجھ پر بچہ گرانے کا الزام عائد کر دیا جاتا۔
میں نے یہ بچہ اپنے والد کے خلاف الزام ثابت کرنے کے لیے رکھا ہے۔‘
عدالت نے مقدمہ والد اور بیٹی کے ڈی این اے کے نمونے پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے خارج کر دیا۔
اس کے بعد انصاف کے حصول کی مہم کا آغاز ہوتا ہے۔
زیادتی
کا شکار خاتون نے غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے افغان ٹیلی وژن پر اپنی کہانی
سنائی، خواتین کے حقوق سے منسلک کارکنوں نے ان کی مدد کی۔
افغانستان میں بظاہر جنیٹک فورینسک ٹیسٹ کرنے کی سہولت دستیاب نہیں، جس سے بیرون ملک سے مدد حاصل کرنا ناگزیر ہوگیا تھا۔
اس
خاتون کے حامیوں نے سفارت خانوں اور غیرسرکاری اداروں سے مدد طلب کی، اور
تقریباً ایک سال بعد وہ ڈی این اے ٹیسٹ کروانے میں کامیاب ہو گئے، اور اس
دوران وہ اپنے دوسرے بچے کو جنم دے چکی تھیں۔
بالآخر اٹارنی جنرل اور وزارت داخلہ کے اہلکاروں پر مشتمل کمیٹی کے ذمے یہ کام سونپا گیا۔
میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں۔
جب وہ بڑے ہو جائیں گے اور مجھ سے اپنے باپ کے بارے میں پوچھیں گے تو میں
انھیں کیا بتاؤں گی؟
خاتون کے وکیل روح اللہ بتاتے
ہیں: ’انھوں نے والد، خاتون اور ان کے بچوں کے تھوک اور خون کے نمونے لیے
اور بگرام ایئربیس کے راستے امریکہ بھجوائے۔ اگر ہمیں یہ نتائج نہ ملتے تو
میری موکلہ کو ملکی قوانین کے مطابق سزا ملتی۔‘
ان نمونوں کی جانچ
امریکی فرم ’آئیڈیل انوویشنز‘ میں کی گئی جو فورینسک ٹیسٹنگ میں مہارت
رکھتے ہیں، اور افغانستان میں میں بھی فنگر پرنٹس اور بائیو میٹرک
ٹیکنالوجی فراہم کر چکے ہیں۔ انھوں نے یہ ٹیسٹ بلا معاوضہ کیا۔
جب
نتائج واپس آئے تو ان سے ظاہر ہوا کہ بیٹی کے بچوں کا باپ واقعی زیادتی کا
شکار خاتون کا والد ہی ہے۔ جج نے اس شخص کو موت کی سزا سنا دی۔
یہ مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ والد نے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے، وہ خود کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔
افغان عدالتوں میں ڈی این اے ثبوت فراہم کرنا ایک انہونی سی بات ہے، جس سے اس مقدمے کو انتہائی غیرمعمولی بنا دیا ہے۔
زیادتی کا شکار خاتون نے مجھے بتایا کہ اگر ان کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے کو پھانسی بھی ہو جاتی ہے تب بھی وہ خوفزدہ رہیں گی۔
وہ
کہتی ہیں: ’میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں۔ جب وہ بڑے
ہوجائیں گے اور مجھ سے اپنے باپ کے بارے میں پوچھیں گے تو میں انھیں کیا
بتاؤں گی؟‘
چین
کے دارالحکومت بیجنگ میں 57 ممالک نے ایک نئے مالیاتی ادارے ایشیئن
انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کے آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کے
معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں جمع ہونے والے مندوبین نے اس معاہدے پر دستخط کیے جس سے اے آئي آئی بی کا قانونی ڈھانچہ طے ہوگا۔
اے آئي آئی بی کا قیام اکتوبر میں عمل میں آیا تھا اور اس میں چین کی سربراہی میں 21 ممالک شامل ہیں۔
یہ
بینک ورلڈ بینک اور ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک کی طرح کا مالیاتی ادارہ ہوگا
اور براعظم ایشیا میں توانائی، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں کی
فنڈنگ کرے گا۔
اس کے بانی ارکان میں برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا اور
جنوبی کوریا جیسے اہم ممالک شامل ہیں جبکہ چین اور بھارت اس کے دو بڑے
سرمایہ کار ہیں۔
جاپان اور امریکہ اے آئی آئی بی کے مخالف ہیں اور وہ دونوں ممالک اس میں شامل نہیں ہیں۔
اس
نئے مالیاتی ادارے کے گورنینس کے معیار پر امریکہ نے سوال اٹھائے ہیں اور
اس کے خیال میں اس کا مقصد چین کے ’سافٹ پاور‘ کو پھیلانا ہے۔
اس دستخط کرنے کی تقریب میں 57 ممالک شامل ہیں
ایشیئن انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ
بینک 50 ارب امریکی ڈالر کے سرمائے سے شروعات کرے گا جسے رفتہ رفتہ ایک
کھرب امریکی ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔
چین کی وزارت خزانہ کے حوالے سے خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے بتایا ہے کہ 30.34 فیصد حصص کے ساتھ چین بینک کا سب سے بڑا حصے دار ہے۔
جبکہ بھارت دس سے پندرہ فیصد حصص کے ساتھ دوسرا سب سے بڑا حصے دار اور روس اور جرمنی تیسرے اور چوتھے بڑے حصے دار ہیں۔
بی
بی سی کی چین کے لیے ایڈیٹر کیری گریسي کے مطابق اس مالیاتی ادارے کا قیام
یہ صرف چین کی سفارتی جیت ہے بلکہ اس سے چین کے اقتصادی اہداف کی بھی
تکمیل ہوگی۔
چین اپنا اقتصادی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے نئے اقتصادی اداروں کے قیام پر زور دیتا رہا ہے۔
بیجنگ
میں بی بی سی کے نمائندے مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ یہ چین کے ان مختلف
اداروں میں سے ایک ہے جسے چین نے اپنے اقتصادی ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے
قائم کیا ہے۔ ورلڈ بینک جیسے بڑے عالمی مالیاتی ادارے میں چین کا
اثررورسوخ نہ ہونے کی وجہ سے یہ مالیاتی ادارہ قائم کیا گیا ہے۔
روئٹرز
کے مطابق چین کے وزیر مالیات لو جیویئی نے پیر کو کہا کہ انھیں یہ اعتماد
ہے کہ اے آئی آئی بی رواں سال کے اختتام سے قبل اپنا کام شروع کر دے گا۔
مرکز
میں بی جے پی کی سرکار کہنے سے زیادہ بہتر اور مناسب مودی کی سرکار کہنا
ہوتا ہے، جس کا ایک سال مکمل ہونے پرسرکار، وزیر اور لیڈر پھولے نہیں سما
رہے ہیں ۔ متھرا میں مودی کی ریلی سے لے کر تمام اہتمام و انعقاد کے ذریعہ
سال بھر کا گُن گان جبراً پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن اس بات پرخاموشی ہے کہ
سال بھر گزرتے گزرتے نریندر مودی کے خلاف مخالفت کی آوازیں کیوںابھرنے لگی
ہیں۔ احتجاج کی آواز ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی گنگا صفائی کو لے کر ہویا
رام مندر کی تعمیر کے مسئلے پر ونے کٹیار کی ہو یا کسی دیگر ایشو پر،
مخالفت کا نشانہ نریندر مودی ہی ہیں، جن کی تاناشاہی پر سیاست دانوں کی سال
بھر کی خاموشی بہت ہے۔ ونے کٹیار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ چندر شیکھر کچھ
اور دن وزیر اعظم رہ گئے ہوتے، تو رام مندر بن چکا ہوتا۔
بہر حال مرکزی سرکار کا ایک سال پورا ہونے پر متھرا کے نگلہ چندربھان میں
منعقد ریلی میںمودی نے اپنی سرکار کا سال بھر کا حساب کتاب پیش کرنے کی
کوشش کی، لیکن یہحساب کتاب عوام کو اُتنا متاثر نہیں کر پایا۔مودی نے اپنے
کاموں کا جو حساب دیا، اس پر عوام نے انھیں پورے نمبر نہیں دیے۔ اپوزیشن
پارٹیاں تو انھیں زیرو نمبر دے رہی ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ اپوزیشن کیتخمینے
سے عام لوگ متفق نہیں ہیں۔ مودی کی ایک سال کی مدت کار کا تجزیہ کرتے وقت
اپوزیشن پارٹیاں یہ ایمانداری سے نہیں سوچ پا رہیں کہ جب وہ اقتدار میں
تھیں، تو انھوں نے سال بھر میں کیا کیا تھا اور ایک سال میں ترقی کے کتنے
ریکارڈ قائم کیے تھے۔ انگلی اٹھانے کی سیاسی مسابقت کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ
اپوزیشن اپنی سرکار کے ایک سال والے پہلوپربھولے سے بھی بات نہیں کر رہا
ہے۔
بی جے پیمیں اٹھتی ہوئی مخالفت کی آوازیں مستقبل کے اشارے دینے لگی ہیں۔
ممبران پارلیمنٹ کی یہ ناراضگی ایم پی فنڈ کے تئیں بے اعتنائی سے بھی ظاہر
ہو رہی ہے۔ یہ حقیقت روشنی میں آچکی ہے کہ خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی
کے ارکان پارلیمنٹ اپنے انتخابی حلقوں میں اپنے ہی ایم پی فنڈ کا استعمال
کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ یہ عدم دلچسپی بڑے معاملے سے لے
کر نہایت چھوٹے معاملے تک وزیر اعظم کی مداخلت کو لے کر ہے۔ کئی ارکان
پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ بدعنوانی پر نظر رکھنے کے لیے وزیر اعظم کی اضافی
وابستگی ایک منفی ماحول پیدا کر رہی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ میں یہ پیغام جارہا
ہے کہ جب سارے ارکان پارلیمنٹ کو مشکوک مان کر ان کی نگرانی کی جارہی ہے،
تو وہ کام میں دلچسپی کیوں لیںاور ایمانداری کا پورا تمغہ وہی لوگ لیں، جو
مرکزِ اقتدار کے نزدیک ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی سیاسی
جماعت کے لیے یہ حالت تشویشناک ہوتی ہے، کیونکہ ایک ایماندار اور باقی سب
بے ایمان والی سیلف سینٹرڈ آئیڈیا لوجی، تنظیم کو مین اسٹریم سے محروم کر
دیتی ہے۔ کچھ یہی حالت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہو رہی ہے۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے وزیر اعظم نریندر مودی ا ور ان کے
چہیتے امت شاہ کے خلاف آسام کے بی جے پی لیڈر پردیوت بورا کی بغاوت سرخیوں
میں رہی تھی۔ بورا نے ان دونوں پر پارٹی کے جمہوری ڈھرّے کو تباہ کرنے کا
کھلا الزام لگایا اور استعفیٰ دے دیا۔ یہ مودی کی تاناشاہی کے خلاف پہلی
بغاوت تھی۔ بورا نے کہا تھا کہ بی جے پی کی قومی قیادت کی ترجیحات میں
آسام کے لوگوں کے سروکار سب سے نچلے پائیدان پر ہیں۔ بورا نے لکھا کہ
پارٹی نے آسام سے بنگلہ دیشیوں کو باہر کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج
کیا ہوا؟ کیا تب بورا نے یہ سوچا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بنگلہ دیش
کی خیر سگالی دورے پر چلے جائیں گے اور اپنے سواسو گاؤں دے کر اور 50گاؤں
لے کر تاریخی سمجھوتہ کر آئیں گے۔ بورا نے تب خارجہ سکریٹری کو ہتک آمیز
طریقے سے ہٹائے جانے پر ناراضگی کااظہار کیا تھا اور مودی کے اس رویہ پر
گہرے افسوس کا اظہار کیاتھا کہ کوئی کیبنٹ منسٹر اپنا او ایس ڈی تک تعینات
نہیں کرسکتا۔ کیا اس ملک میں کوئی کیبنٹ سسٹم وجودمیں رہ گیا ہے؟ یہ شرمناک
صورت حال ہے کہ کوئی کیبنٹ منسٹر ، پارٹی کا قومی عہدیدار اور رکن
پارلیمنٹ مودی سے ان مسئلوں پرسوال پوچھنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔
ابھی حال ہی میں سابق مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر ارون شوری نے
وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں پر تیکھے سوال اٹھائے تھے اور مودی سرکار کو
کٹہرے میں کھڑا کیا تھا۔ اس کے بعد گزشتہ دنوں اتر پردیش کے جالون سے بی جے
پی کے رکن پارلیمنٹ بھانو پرتاپ ورما کی بغاوت کے خط نے وبال مچادیا۔
حالانکہ ورما نے کہاکہ اس خط پر ان کے دستخط نہیں ہیں، لیکن تب تک مدعا تیر
کی طرح نکل چکا تھا۔ رکن پارلیمنٹ کے اس خط میں بی جے پی کو چار گجراتیوں
کے ہاتھوں کا کھلونا بتایا گیا اور کہا گیا کہ پارٹی میں ’اپنا پن‘ کاجذبہ
ختم کر کے کارپوریٹ تہذیب اپنائی جارہی ہے۔ مودی کی دہشت کا اشارہ دیتے
ہوئے کہا کہ کانگریس میں صرف ایک منموہن ہیں، لیکن بی جے پی قیادت نے تو ہم
سب کو’ مون موہن ‘ بنا رکھا ہے۔ کیا پارٹی اور ملک کو صرف چار گجراتی
(مودی، شاہ، امبانی اور ادانی) چلائیں گے؟ کشمیر معاملے پر بھی مودی کی سخت
تنقید کی گئی ہے۔ رکن پارلیمنٹ ورما نے اس خط کو سرکار ی طور پر قبول نہیں
کیا، لیکن پارٹی میں جوحالات ہیں، خط ان ہی حالات کا خلاصہ کر رہا ہے۔
پارٹی کے کئی لیڈروں کا درد یہی ہے، لیکن وہ خاموش ہیں۔ ریاستی سیاست میں
اگلی قطار میں رہے لال جی ٹنڈن، ونے کٹیار، سوریہ پرتاپ شاہی، اوم پرکاش
سنگھ اور ہردے نارائن دیکشت جیسے لیڈروں کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔
پارٹی کے فائر برانڈ نوجوان چہرے کے طورپر چمکے ورون گاندھی کو بھی منظر
نامہ سے غائب کردیا گیا ہے۔
اتر پردیش پر باہر سے ٹپکائے گئے لیڈر کوئی اثر قائم نہیںکر پارہے ہیں۔
پارٹی جنرل سکریٹری اور ریاست کے انچارج بنائے گئے اوم ماتھر بھی بی جے پی
کی بری حالت کے ہی گواہ بن رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے الیکشن میں جیت کا سہرا
اکیلے ا مت شاہ کے سر پرباندھنے سے وہ کارکن بھی جوالا مکھی بنے بیٹھے ہیں،
جنھوں نے زمینی سطح پر پورے جوش و جذبے سے کام کیا، لیکن انھیں کچھ نہیں
ملا۔ اب وہ پھٹنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
لب ولباب یہ ہے کہ بی جے پی میںخود احتسابی کا احساس ختم ہوگیا ہے۔اسی وجہ
سے دہلی کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کو ہار کا منہ
دیکھنا پڑا۔ بہار بھی چیلنج کے طرح سامنے کھڑا ہے۔ بہار انتخاب کے بعد
اترپردیش کا ہی انتخاب ہونا ہے۔ بی جے پی کے لیے یہ ٹرانزیشن پیرئڈ ہے
۔پارٹی کے اندر بڑھ رہی مایوسی اور بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کا رویہ
پارٹی کے لیے بے حد تشویشناک صورت حال پیدا کر رہا ہے۔
لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی،لال جی ٹنڈن جیسے کئی دیگر سینئر اور
تجربہ کار لیڈروں کے تئیں سوچی سمجھی بے اعتنائی نریندر مودی کے لیے جلدی
ہی بھاری پڑنے والی ہے۔ یہ مودی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے اور ان کے سپہ
سالار انھیںیہ سمجھنے بھی نہیں دے رہے ہیں۔ گنگا کی صفائی اور ’نمامی گنگے‘
وزیر اعظم نریندر مودی کے مرکزی ایجنڈے کے طور پر مشتہر ہے۔ اس پر حملے کا
مطلب ہے نریندر مودی پر حملہ۔ سیاسی تجربہ سے مالامال دانشور مرلی منوہر
جوشی نے گنگا کی صفائی کے مسئلے پر زمینی حالت کو دیکھتے ہوئے جب یہ کہا کہ
گنگا اگلے 50سال میں بھی صاف نہیں ہو سکے گی،اس بات نے بی جے پی کی
اندرونی سیاست میں بھونچال مچادیا ہے۔ اوپراوپر جو سکوت دکھائی دے رہا ہے،
وہ طوفان کے آنیسے پہلے والا سناٹا ہے۔ ’سوچھ گنگا پری یوجنا‘ پر جوشی نے
اپنا دھاردار اعتراض درج کیا۔ جوشی نے ایک طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی
قیادت والی مرکزی سرکار کے پروگرام ’نمامی گنگے‘ پر الگ رخ اختیار کرنے
کاعوامی طور پر اظہار کیا اور واضح طور پر کہا کہ گنگا ندی کی صفائی کے لیے
جس طرح سے پروجیکٹ چلایا جارہا ہے، اس سے اگلے 50 سال میں بھی ندی صاف
نہیں ہوسکے گی۔ انھوں نے کہا، جب تک ندی میں ’اسموتھ واٹر فلو‘ نہیں ہوتا،
گنگا کی صفائی دور کا خواب ہوگا۔ جس طرح ندی کو چھوٹے حصوں میں بانٹ کر
چھوٹے آبی مراکز میںبدل کر اس کی صفائی کی جارہی ہے، ندی اگلے 50 سال میں
بھی صاف نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا کہ گنگا ہماری لائف لائن ہے اور گنگا
پر منڈلاتا ہوا کوئی خطرہ ہماری ثقافت و روایت کے لیے خطرناک ہوگا۔
جوشی نے مرکزی وزیر نتن گٖڈکری کے’ اِن لینڈ واٹر ویز پروجیکٹ‘ پر بھی
تیکھا طنز کیا۔ انھوں نے کہا، گنگا میں جہاز چلانا تو دور، بڑی ناؤ بھی
نہیں چل پائے گی، جبکہ گڈکری کہہ رہے ہیں کہ بھاری مصنوعات کی ڈھلائی کے
لیے گنگا ندی میں بڑے بڑے جہاز چلائیں گے۔ انھیں گنگا کی موجودہ حالت کا تو
پتہ لگا لینا چاہیے۔ جوشی کا مقصد ندیوں کی حالت اور اس کی جغرافیائی حالت
کو لے کر جہاز رانی وزارت کی جنرل نولج سے تھا۔ جن پنڈت مہامنا مدن موہن
مالویہ کو ’بھارت رتن‘ دیا گیا، ان ہی مہامنا مدن موہن مالویہ کو نظر انداز
کرنے کا جوشی نے الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ مہامنا نے ندی میں پانی کا
بہاؤ قائم رکھنے کے لیے انگریزوں سے لڑائیلڑی تھی اور ہری دوار میں گنگا
ندی میں مسلسل بہاؤ کی کم از کم سطح قائم رکھنے کے لیے ایک سمجھوتہ پر
دستخط کرنے کو مجبور کردیا تھا۔ اس پر انگریزوں کی حکومت تک تو عمل ہوتا
رہا، لیکن اب اس کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
سیاست میں دلچسپ موڑ تب آگیا جب دوارک
راہل
گاندھی جب سے گمنام چھٹی سے واپس لوٹے ہیں، تب سے وہ بالکل الگ انداز میں
دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا نہ صرف انداز نیا ہے، بلکہ ان کی سوچ نئی ہے،
حکمت عملی نئی ہے، سیاست نئی ہے، صلاح کار نئے ہیں اور نظریہ بھی نیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلے دس سالوں میں وہ جتنا پارلیمنٹ میں بولے، اس سے کہیں
زیادہ انہوں نے اس بار کے بجٹ اجلاس میں اپنی بات رکھی۔ پارلیمنٹ میں جہاں
وہ ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی پر حملہ کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ
کسانوں کے مدعے کو لے کر سڑکوں پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ کسانوں کی خودکشی کے
خلاف چلچلاتی گرمی میں پیدل مارچ بھی کر رہے ہیں۔ گاؤوں میں جا کر لوگوں
کے بیچ چارپائی پر بیٹھ کر چائے پینا، گاؤں والوں سے بات چیت کرنا یا پھر
پارلیمنٹ کے اندر تحویل اراضی کا معاملہ ہو یا نیٹ نیوٹریلٹی کا، راہل
گاندھی ایک نئے اوتار میں نظر آ رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہنا پڑے گا کہ ان کی
کارکردگی زبردست رہی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ راہل گاندھی جب سے چھٹی سے
واپس لوٹے ہیں، وہ ایک تیز طرار لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ راہل کی اس کی
کارکردگی سے جہاں ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی بیک فٹ پر چلی گئی، وہیں
کانگریس پارٹی کے اندر بھی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ کانگریس کا ہر بڑا اور
چھوٹا لیڈر پارٹی میں اپنے مستقبل کو لے کر فکرمند نظر آ رہا ہے۔
’چوتھی دنیا‘ نے چھ ہفتے پہلے ہی یہ خبر دی تھی کہ ستمبر کے مہینہ میں راہل
گاندھی کو کانگریس پارٹی کا صدر بنایا جائے گا۔ راہل گاندھی کی تمام
سرگرمیاں اسی بڑے منصوبہ کا حصہ ہیں۔ راہل گاندھی نہ صرف کانگریس کے صدر
بنیں گے، بلکہ وہ اپنی پسند کی کانگریس کی ٹیم بھی بنائیں گے۔ اپنی نئی ٹیم
کے ذریعے ہی پارٹی کو پھر سے مضبوط کرنے کی حکمت عملی کو زمینی سطح پر
نافذ کریں گے۔ راہل کی ٹیم میں کون ہوگا اور کس کی چھٹی ہوگی، اسے لے کر
نئے اور پرانے کانگریسی لیڈر آج کل بے چین ہیں۔ بے چینی کی وجہ یہ ہے کہ
راہل گاندھی کا پورا انداز بدل چکا ہے۔ راہل گاندھی اب کانگریس کو ایسی
پارٹی کے طو رپر تیار کرنا چاہتے ہیں، جہاں عہدیداروں کو ذمہ داری لینی
ہوگی۔ وہ اب کچھ خاص صلاح کاروں سے صلاح لینے کی بجائے بڑے پیمانے پر لوگوں
سے صلاح و مشورہ کرنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کل تک جو لوگ راہل گاندھی کے
قریبی صلاح کار تھے، آج ان کا اثر اور اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ راہل گاندھی
کو اب یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ ان کے کئی سارے فیصلے، جو انہوں نے
اپنے قریبی صلاح کاروں کے مشورے پر لیے تھے، ان سے خود ان کا اور ان کی
پارٹی کا نقصا ن ہوا ہے۔ ایسے لوگوں میں جے رام رمیش، مدھو سودن مستری،
موہن پرکاش اور سی پی جوشی جیسے لوگ شامل ہیں۔ راہل گاندھی کو اس بات کا
احساس ہو چکا ہے کہ وہ اب اپوزیشن کے رول میں ہیں اور سرکا رپر حملہ کرنا
ہی سب سے کارگر حکمت عملی ہے۔ اس لیے وہ ہر مدعے پر حملہ آور نظر آ رہے
ہیں۔ ان کی حکمت عملی صاف ہے۔ وہ مودی سرکار کو غریب، کسان اور مزدور مخالف
سرکار کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تحویل اراضی بل کے
خلاف پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک آندولن کرنے میں مصروف ہیں۔ تحویل اراضی بل
کے مدعے پر وہ اتر پردیش، بہار اور بنگال کے غریب کسانوں کو لبھانے کی
کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی کو لگتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں
ہار کی وجہ منموہن سرکار کی غریب مخالف شبیہ رہی ہے۔ ساتھ ہی وہ اس بات سے
بھی ناراض ہیں کہ یو پی اے سرکار کے وزیروں نے مفادِ عامہ کی بہت ساری
اسکیموں کے نفاذ میں کوتاہی برتی۔ انہیں لگتا ہے کہ کسانوں اور غریبوں کو
سیدھے سیدھے کیش دینے والی اسکیموں کو اگر صحیح ڈھنگ سے نافذ کیا گیا
ہوتااور کسانوں اور دیہی مزدوروں کو راحت دینے والی ساری اسکیموں پر دھیان
دیا گیا ہوتا، تو آج کانگریس پارٹی کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ راہل گاندھی کو
ایک اور بات کی شکایت ہے کہ بدعنوانی کو لے کر کانگریس پارٹی کی جو شبیہ
بنی، اس سے روایتی حامیوں کا اعتماد اور حمایت پارٹی نے کھو دیا۔ ابھی لوک
سبھا الیکشن میں چار سال کا وقت بچا ہے۔ اس درمیان بہار، بنگال اور اتر
پردیش جیسی اہم اور بڑی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ راہل گاندھی
نے پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ پارٹی کی از سر نو
تعمیر کا کام زمینی سطح سے شروع ہونا چاہیے، اس میں نوجوانوں کو زیادہ سے
زیادہ موقع ملنا چاہیے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے تمام عہدیداروں اور لیڈروں کو
اپنے اپنے علاقوں میں جا کر کام کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔
راہل گاندھی کانگریس پارٹی کی ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔ پارٹی کو پھر سے
کھڑا کرنے کی حکمت عملی بھی انہوں نے بنا لی ہے۔ انہیں چنوتیوں کا اندازہ
بھی ہو چکا ہے۔ کانگریس پارٹی کے اندر کیا کمیاں ہیں، اسے بھی سمجھنے کی
انہوں نے کوشش کی ہے اور اس کا تجزیہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی اس وقت حالت
یہ ہے کہ کوئی بھی آگے بڑھ کر کچھ بولنا نہیں چاہتا۔ پارٹی میں راہل
گاندھی کی نظروں میں خود کو قابل دکھانے کی ہوڑ لگی ہے۔ کانگریس کے ایک
نوجوان لیڈر نے بتایا کہ راہل گاندھی نے انتخابی نتائج کے سامنے آنے کے
بعد کانگریس کے تقریباً 500 زمینی لیڈروں اور عہدیداروں سے بات چیت کی اور
ان سب سے ہار کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے کہا۔ راہل گاندھی یہ کام دو
مہینے تک کرتے رہے، اس کے بعد انہوں نے ایک نئی حکمت عملی بنائی، جس کے چار
حصے ہیں۔ پہلا، پارٹی کو گراس روٹ لیول پر مضبوط کرنا۔ دوسرا، مقامی مدعوں
کو اٹھا کر کانگریس کے روایتی ووٹروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا۔ تیسرا، جن
ریاستوں میں کانگریس کی سرکار نہیں ہے، وہاں سرکار کی مخالفت کرتے ہوئے
عوام کے درمیان اپنے وجود کو بنائے رکھنا اور چوتھا، پچھلی غلطیوں کو درست
کرنا، مثلاً مسلم نواز نظر نہ آنا۔
راہل گاندھی نے یہ حکمت عملی فروری ماہ میں ہی تیار کر لی تھی، لیکن اسے کب
لانچ کرنا ہے، یہ طے نہیں ہو پایا تھا۔ دیر اس لیے ہوئی، کیوں کہ پارٹی کے
اندر راہل گاندھی کے خلاف ہی کئی لیڈر بیان بازی کرنے لگے تھے۔ کانگریس
پارٹی کے پرانے اور تجربہ کار لیڈر بھی راہل کی مخالفت پر آمادہ تھے۔
کانگریس کے اندر یہ خوف بھی پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں کوئی لیڈر بغاوت نہ کر
بیٹھے، اس لیے کسی بھی تبدیلی کے فیصلہ کو روکا گیا۔ سونیا گاندھی نے
پرانے لیڈروں سے بات چیت کرکے ماحول کو قابو میں کیا۔ خبر یہ بھی آئی کہ
راہل گاندھی اس دیری کی وجہ سے ناراض ہیں، اسی لیے وہ بجٹ اجلاس کے دوران
چھٹی پر چلے