Monday, July 20, 2015

کسی بھی وزیر کے استعفیٰ کا سوال ہی نہیں

awal_1

 

نئی دہلی ۔ 20 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین محاذ آرائی یقینی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ مانسون سیشن کے سلسلہ میں آج منعقدہ کل جماعتی اجلاس میں تعطل برقرار رہا اور للت مودی و ویاپم اسکام کے تعلق سے دونوں اپنے اپنے موقف پر قائم رہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے تمام مسائل پر بحث کی پیشکش کی۔ تاہم حکومت نے کسی کے بھی استعفیٰ کا امکان مسترد کردیا۔ وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ کسی کے بھی الٹی میٹم کو قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انھوں نے کہاکہ استعفیٰ کا سوال ہی کہاں سے پیدا ہورہا ہے ؟ کوئی بھی حکومت پر اپنی شرائط مسلط نہیں کرسکتا ۔ انھوں نے واضح طورپر کہا کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی مرکزی وزیر نے کوئی غیرقانونی یا غیراخلاقی کام نہیں کیا ہے ۔ وہ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد کے اس تبصرہ پر ردعمل ظاہر کررہے تھے کہ اگر مودی پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کو موثر انداز میں چلانے کے خواہاں ہیں تو انھیں چاہئے کہ وزیر اُمور خارجہ سشما سوراج ، چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے اور چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کو برطرف کردیں۔ نریندر مودی نے تمام جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ میں تمام مسائل پر بحث کریں اور دونوں ایوان کی کارروائی کو موثر طورپر چلانا سب کی ذمہ داری ہے ۔ انھوں نے متنازعہ اراضی بل کے سلسلے میں بھی اجتماعی طورپر آگے بڑھنے کی ضرورت ظاہر کی ۔ اس بل کی مختلف اپوزیشن جماعتیں سختی سے مخالفت کررہی ہیں ۔ کانگریس تاہم اپنے اس موقف ’’استعفیٰ نہیں تو کارروائی نہیں ‘‘کے سلسلے میں ایسا لگتا ہے کہ یکا و تنہا ہوگئی ہے کیونکہ دیگر کئی جماعتوں کا اجلاس میں یہ موقف تھا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو بالکلیہ ناکام بنانا مسئلہ کا حل نہیں ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ 29 اپوزیشن جماعتوں نے کانگریس کے اس موقف کی تائید نہیں کی ۔ تاہم این سی پی کے طارق انور اور سی پی آئی ایم کے سیتا رام یچوری کا یہ احساس تھا کہ حکومت کو کارروائی کرنی چاہئے ۔ لوک سبھا میں کانگریس وہپ کے سی وینو گوپال نے کہاکہ ہم مختلف بلز کی منظوری کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے تیار ہیں لیکن اس ضمن میں حکومت کا بھی مکمل تعاون ملنا چاہئے اور کئی اہم موضوعات جیسے ویاپم ، للت تنازعہ اور ہند پاک روابط پر بامقصد کارروائی ہونی چاہئے ۔

No comments:

Post a Comment