Monday, August 10, 2015

ایران اور امریکہ کے درمیان تعاون خارج از امکان نہیں، اوباما

 
 
صدر اوباما نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بھی ایسا معاہدہ خارج از امکان نہیں جس کا مقصد خطے میں اسلامی شدت پسندی کو پنپنے سے روکنا ہو۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے اس پر ایران اور خود امریکہ کے سیاسی حلقوں کی جانب سے ہونے والے اعتراضات کو مسترد کردیا ہے۔
اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' پر نشر کیے جانے والے ایک انٹرویو میں صدر اوباما نےکہا کہ جوہری معاہدہ شام میں برسوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایران –امریکہ تعاون کے آغاز کی بنیاد بن سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ان کا نہیں خیال کہ ایسا فوراً ہوجائے گا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ معاہدے پر عمل درآمد کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان اس تعاون کا امکان موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بھی ایسا معاہدہ خارج از امکان نہیں جس کا مقصد شام کی جغرافیائی ہیئت کو برقرار رکھنا اور خطے میں مسلمان دہشت گردوں کو پنپنے سے روکنا ہو۔
صدر اوباما نے الزام عائد کیا کہ ایران کے ساتھ گزشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے کے مخالف امریکی – خصوصاً ری پبلکن ارکانِ کانگریس اس معاملے میں ایران کے ان سخت گیر حلقوں کے موقف کو تقویت پہنچارہے ہیں جو معاہدے کے حق میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی قانون سازوں کی جانب سے معاہدے کی مخالفت کا فائدہ ایران میں پاسدارانِ انقلاب، القدس فورس جیسے سخت گیر گروہوں اور ان ایرانی حلقوں کو پہنچ رہا ہے جو ایرانی حکو مت کے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کے مخالف ہیں۔

No comments:

Post a Comment