Saturday, June 27, 2015

مودی کی تاناشاہی کے خلاف بغاوت کا بگل بجنا شروع


p-5مرکز میں بی جے پی کی سرکار کہنے سے زیادہ بہتر اور مناسب مودی کی سرکار کہنا ہوتا ہے، جس کا ایک سال مکمل ہونے پرسرکار، وزیر اور لیڈر پھولے نہیں سما رہے ہیں ۔ متھرا میں مودی کی ریلی سے لے کر تمام اہتمام و انعقاد کے ذریعہ سال بھر کا گُن گان جبراً پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن اس بات پرخاموشی ہے کہ سال بھر گزرتے گزرتے نریندر مودی کے خلاف مخالفت کی آوازیں کیوںابھرنے لگی ہیں۔ احتجاج کی آواز ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی گنگا صفائی کو لے کر ہویا رام مندر کی تعمیر کے مسئلے پر ونے کٹیار کی ہو یا کسی دیگر ایشو پر، مخالفت کا نشانہ نریندر مودی ہی ہیں، جن کی تاناشاہی پر سیاست دانوں کی سال بھر کی خاموشی بہت ہے۔ ونے کٹیار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ چندر شیکھر کچھ اور دن وزیر اعظم رہ گئے ہوتے، تو رام مندر بن چکا ہوتا۔
بہر حال مرکزی سرکار کا ایک سال پورا ہونے پر متھرا کے نگلہ چندربھان میں منعقد ریلی میںمودی نے اپنی سرکار کا سال بھر کا حساب کتاب پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن یہحساب کتاب عوام کو اُتنا متاثر نہیں کر پایا۔مودی نے اپنے کاموں کا جو حساب دیا، اس پر عوام نے انھیں پورے نمبر نہیں دیے۔ اپوزیشن پارٹیاں تو انھیں زیرو نمبر دے رہی ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ اپوزیشن کیتخمینے سے عام لوگ متفق نہیں ہیں۔ مودی کی ایک سال کی مدت کار کا تجزیہ کرتے وقت اپوزیشن پارٹیاں یہ ایمانداری سے نہیں سوچ پا رہیں کہ جب وہ اقتدار میں تھیں، تو انھوں نے سال بھر میں کیا کیا تھا اور ایک سال میں ترقی کے کتنے ریکارڈ قائم کیے تھے۔ انگلی اٹھانے کی سیاسی مسابقت کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اپوزیشن اپنی سرکار کے ایک سال والے پہلوپربھولے سے بھی بات نہیں کر رہا ہے۔
بی جے پیمیں اٹھتی ہوئی مخالفت کی آوازیں مستقبل کے اشارے دینے لگی ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کی یہ ناراضگی ایم پی فنڈ کے تئیں بے اعتنائی سے بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ یہ حقیقت روشنی میں آچکی ہے کہ خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اپنے انتخابی حلقوں میں اپنے ہی ایم پی فنڈ کا استعمال کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ یہ عدم دلچسپی بڑے معاملے سے لے کر نہایت چھوٹے معاملے تک وزیر اعظم کی مداخلت کو لے کر ہے۔ کئی ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ بدعنوانی پر نظر رکھنے کے لیے وزیر اعظم کی اضافی وابستگی ایک منفی ماحول پیدا کر رہی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ میں یہ پیغام جارہا ہے کہ جب سارے ارکان پارلیمنٹ کو مشکوک مان کر ان کی نگرانی کی جارہی ہے، تو وہ کام میں دلچسپی کیوں لیںاور ایمانداری کا پورا تمغہ وہی لوگ لیں، جو مرکزِ اقتدار کے نزدیک ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے یہ حالت تشویشناک ہوتی ہے، کیونکہ ایک ایماندار اور باقی سب بے ایمان والی سیلف سینٹرڈ آئیڈیا لوجی، تنظیم کو مین اسٹریم سے محروم کر دیتی ہے۔ کچھ یہی حالت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہو رہی ہے۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے وزیر اعظم نریندر مودی ا ور ان کے چہیتے امت شاہ کے خلاف آسام کے بی جے پی لیڈر پردیوت بورا کی بغاوت سرخیوں میں رہی تھی۔ بورا نے ان دونوں پر پارٹی کے جمہوری ڈھرّے کو تباہ کرنے کا کھلا الزام لگایا اور استعفیٰ دے دیا۔ یہ مودی کی تاناشاہی کے خلاف پہلی بغاوت تھی۔ بورا نے کہا تھا کہ بی جے پی کی قومی قیادت کی ترجیحات میں آسام کے لوگوں کے سروکار سب سے نچلے پائیدان پر ہیں۔ بورا نے لکھا کہ پارٹی نے آسام سے بنگلہ دیشیوں کو باہر کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج کیا ہوا؟ کیا تب بورا نے یہ سوچا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کی خیر سگالی دورے پر چلے جائیں گے اور اپنے سواسو گاؤں دے کر اور 50گاؤں لے کر تاریخی سمجھوتہ کر آئیں گے۔ بورا نے تب خارجہ سکریٹری کو ہتک آمیز طریقے سے ہٹائے جانے پر ناراضگی کااظہار کیا تھا اور مودی کے اس رویہ پر گہرے افسوس کا اظہار کیاتھا کہ کوئی کیبنٹ منسٹر اپنا او ایس ڈی تک تعینات نہیں کرسکتا۔ کیا اس ملک میں کوئی کیبنٹ سسٹم وجودمیں رہ گیا ہے؟ یہ شرمناک صورت حال ہے کہ کوئی کیبنٹ منسٹر ، پارٹی کا قومی عہدیدار اور رکن پارلیمنٹ مودی سے ان مسئلوں پرسوال پوچھنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔
ابھی حال ہی میں سابق مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر ارون شوری نے وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں پر تیکھے سوال اٹھائے تھے اور مودی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا۔ اس کے بعد گزشتہ دنوں اتر پردیش کے جالون سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بھانو پرتاپ ورما کی بغاوت کے خط نے وبال مچادیا۔ حالانکہ ورما نے کہاکہ اس خط پر ان کے دستخط نہیں ہیں، لیکن تب تک مدعا تیر کی طرح نکل چکا تھا۔ رکن پارلیمنٹ کے اس خط میں بی جے پی کو چار گجراتیوں کے ہاتھوں کا کھلونا بتایا گیا اور کہا گیا کہ پارٹی میں ’اپنا پن‘ کاجذبہ ختم کر کے کارپوریٹ تہذیب اپنائی جارہی ہے۔ مودی کی دہشت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں صرف ایک منموہن ہیں، لیکن بی جے پی قیادت نے تو ہم سب کو’ مون موہن ‘ بنا رکھا ہے۔ کیا پارٹی اور ملک کو صرف چار گجراتی (مودی، شاہ، امبانی اور ادانی) چلائیں گے؟ کشمیر معاملے پر بھی مودی کی سخت تنقید کی گئی ہے۔ رکن پارلیمنٹ ورما نے اس خط کو سرکار ی طور پر قبول نہیں کیا، لیکن پارٹی میں جوحالات ہیں، خط ان ہی حالات کا خلاصہ کر رہا ہے۔ پارٹی کے کئی لیڈروں کا درد یہی ہے، لیکن وہ خاموش ہیں۔ ریاستی سیاست میں اگلی قطار میں رہے لال جی ٹنڈن، ونے کٹیار، سوریہ پرتاپ شاہی، اوم پرکاش سنگھ اور ہردے نارائن دیکشت جیسے لیڈروں کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ پارٹی کے فائر برانڈ نوجوان چہرے کے طورپر چمکے ورون گاندھی کو بھی منظر نامہ سے غائب کردیا گیا ہے۔
اتر پردیش پر باہر سے ٹپکائے گئے لیڈر کوئی اثر قائم نہیںکر پارہے ہیں۔ پارٹی جنرل سکریٹری اور ریاست کے انچارج بنائے گئے اوم ماتھر بھی بی جے پی کی بری حالت کے ہی گواہ بن رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے الیکشن میں جیت کا سہرا اکیلے ا مت شاہ کے سر پرباندھنے سے وہ کارکن بھی جوالا مکھی بنے بیٹھے ہیں، جنھوں نے زمینی سطح پر پورے جوش و جذبے سے کام کیا، لیکن انھیں کچھ نہیں ملا۔ اب وہ پھٹنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
لب ولباب یہ ہے کہ بی جے پی میںخود احتسابی کا احساس ختم ہوگیا ہے۔اسی وجہ سے دہلی کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ بہار بھی چیلنج کے طرح سامنے کھڑا ہے۔ بہار انتخاب کے بعد اترپردیش کا ہی انتخاب ہونا ہے۔ بی جے پی کے لیے یہ ٹرانزیشن پیرئڈ ہے ۔پارٹی کے اندر بڑھ رہی مایوسی اور بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کا رویہ پارٹی کے لیے بے حد تشویشناک صورت حال پیدا کر رہا ہے۔
لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی،لال جی ٹنڈن جیسے کئی دیگر سینئر اور تجربہ کار لیڈروں کے تئیں سوچی سمجھی بے اعتنائی نریندر مودی کے لیے جلدی ہی بھاری پڑنے والی ہے۔ یہ مودی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے اور ان کے سپہ سالار انھیںیہ سمجھنے بھی نہیں دے رہے ہیں۔ گنگا کی صفائی اور ’نمامی گنگے‘ وزیر اعظم نریندر مودی کے مرکزی ایجنڈے کے طور پر مشتہر ہے۔ اس پر حملے کا مطلب ہے نریندر مودی پر حملہ۔ سیاسی تجربہ سے مالامال دانشور مرلی منوہر جوشی نے گنگا کی صفائی کے مسئلے پر زمینی حالت کو دیکھتے ہوئے جب یہ کہا کہ گنگا اگلے 50سال میں بھی صاف نہیں ہو سکے گی،اس بات نے بی جے پی کی اندرونی سیاست میں بھونچال مچادیا ہے۔ اوپراوپر جو سکوت دکھائی دے رہا ہے، وہ طوفان کے آنیسے پہلے والا سناٹا ہے۔ ’سوچھ گنگا پری یوجنا‘ پر جوشی نے اپنا دھاردار اعتراض درج کیا۔ جوشی نے ایک طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی سرکار کے پروگرام ’نمامی گنگے‘ پر الگ رخ اختیار کرنے کاعوامی طور پر اظہار کیا اور واضح طور پر کہا کہ گنگا ندی کی صفائی کے لیے جس طرح سے پروجیکٹ چلایا جارہا ہے، اس سے اگلے 50 سال میں بھی ندی صاف نہیں ہوسکے گی۔ انھوں نے کہا، جب تک ندی میں ’اسموتھ واٹر فلو‘ نہیں ہوتا، گنگا کی صفائی دور کا خواب ہوگا۔ جس طرح ندی کو چھوٹے حصوں میں بانٹ کر چھوٹے آبی مراکز میںبدل کر اس کی صفائی کی جارہی ہے، ندی اگلے 50 سال میں بھی صاف نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا کہ گنگا ہماری لائف لائن ہے اور گنگا پر منڈلاتا ہوا کوئی خطرہ ہماری ثقافت و روایت کے لیے خطرناک ہوگا۔
جوشی نے مرکزی وزیر نتن گٖڈکری کے’ اِن لینڈ واٹر ویز پروجیکٹ‘ پر بھی تیکھا طنز کیا۔ انھوں نے کہا، گنگا میں جہاز چلانا تو دور، بڑی ناؤ بھی نہیں چل پائے گی، جبکہ گڈکری کہہ رہے ہیں کہ بھاری مصنوعات کی ڈھلائی کے لیے گنگا ندی میں بڑے بڑے جہاز چلائیں گے۔ انھیں گنگا کی موجودہ حالت کا تو پتہ لگا لینا چاہیے۔ جوشی کا مقصد ندیوں کی حالت اور اس کی جغرافیائی حالت کو لے کر جہاز رانی وزارت کی جنرل نولج سے تھا۔ جن پنڈت مہامنا مدن موہن مالویہ کو ’بھارت رتن‘ دیا گیا، ان ہی مہامنا مدن موہن مالویہ کو نظر انداز کرنے کا جوشی نے الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ مہامنا نے ندی میں پانی کا بہاؤ قائم رکھنے کے لیے انگریزوں سے لڑائیلڑی تھی اور ہری دوار میں گنگا ندی میں مسلسل بہاؤ کی کم از کم سطح قائم رکھنے کے لیے ایک سمجھوتہ پر دستخط کرنے کو مجبور کردیا تھا۔ اس پر انگریزوں کی حکومت تک تو عمل ہوتا رہا، لیکن اب اس کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
سیاست میں دلچسپ موڑ تب آگیا جب دوارک

No comments:

Post a Comment